30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
والمذھب قول علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ الاستواء غیر مجہول والتکیف غیر معقول والایمان بہ واجب و السوال عنہ بدعۃ لانہ تعالٰی کان ولا مکان فھو علی ما کان قبل خلق المکان لم یتغیر عما کان۔[1] |
مذہب وہ ہے جو مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم نے فرمایا کہ استواء مجہول نہیں اور اس کی چگونگی عقل میں نہیں آسکتی اُس پر ایمان واجب ہے اور اس کے معنی سے بحث بدعت ہے اس لیے کہ مکان پیدا ہونے سے پہلے اﷲ تعالٰی موجود تھا اور مکان نہ تھا پھر وہ اپنی اُس شان سے بدلا نہیں یعنی جیسا جب مکان سے پاك تھا اب بھی پاك ہے۔ |
گمراہ اپنی ہی مستند کی اس عبارت کو سوجھے اور اپنا ایمان ٹھیك کرے۔
(۱۵)اسی میں زیر سورہ اعراف یہی قول امام جعفر صادق و امام حسن بصری و امام اعظم ابوحنیفہ و امام مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے نقل فرمایا[2]۔
(۱۶)یہی مضمون جامع البیان سورہ یونس میں ہے۔
|
الاستواء معلوم والکیفیۃ مجہولۃ والسؤال عنہ بدعۃ۔[3] |
استواء معلوم ہے اور اس کی کیفیت مجہول ہے اور اس سے بحث و سوال بدعت ہے۔(ت) |
(۱۷)یہی مضمون سورہ رعد میں سلف صالح سے نقل کیا کہ:
|
قال السلف الاستواء معلوم و الکیفیۃ مجھولۃ۔[4] |
سلف نے فرمایا:استواء معلوم ہے اور کیفیت مجہول ہے۔(ت) |
(۱۸)سورہ طٰہٰ میں لکھا ہے:
|
سئل الشافعی عن الاستواء فاجاب اٰمنت بلاتشبیہ واتھمت |
یعنی امام شافعی سے استواء کے معنی پوچھے گئے،فرمایا:میں استواء پر ایمان لایا اور |
[1] مدارك التنزیل(تفسیر النسفی)آیت ۳/ ۵ دارالکتاب العربی بیروت ۳/۴۸
[2] مدارك التنزیل(تفسیر النسفی)آیت ۷/۵۴ دارالکتاب العربی بیروت ۲/۵۶
[3] جامع البیان محمد بن عبدالرحمن الشافعی آیۃ ۱۰/۳ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ۱/ ۲۹۲
[4] جامع البیان محمد بن عبدالرحمن الشافعی آیۃ ۱۳/ ۲ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ۱/ ۳۴۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع