30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
والیہاذھب احمد بن حنبل والحسین بن الفضل البلخی ومن المتاخرین ابوسلیمن الخطابی۔[1] |
امام احمد بن حنبل و امام حسین بن فضل بلخی اور متاخرین سے امام ابوسلیمن خطابی کا ہے۔ |
الحمدﷲ امام اعظم سے روایت عنقریب آتی ہے،ائمہ ثلٰثہ سے یہ موجود ہیں،ثابت ہوا کہ چاروں اماموں کا اجماع ہے کہ استواء کے معنی کچھ نہ کہے جائیں اس پر ایمان واجب ہے اور معنی کی تفتیش حرام یہی طریقہ جملہ سلف صالحین کا ہے۔
(۱۲)اُسی میں امام خطابی سے ہے
|
"ونحن احری بان لانتقدم فیما تأخر عنہ من ھو اکثر علما و اقدم زمانا وسنا،ولکن الزمان الذی نحن فیہ قد صاراھلہ حزبین منکرلما یروی من نوع ھٰذہ الاحادیث راسا ومکذب بہ اصلا،وفی ذلك تکذیب العلماء الذین ردوا ھٰذہ الاحادیث وھم ائمۃ الدین ونقلۃ السنن و الواسطۃ بیننا و بین رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم،والطائفۃ الاخرٰی مسلمۃ للروایۃ فیہا ذاھبۃ فی تحقیق منہا مذھبا یکاد یفضی بھم الی القول بالتشبیہ و نحن نرغب عن الامرین معًا،ولا نرضی بواحد منھما مذھبا،فیحق علینا ان نطلب |
یعنی جب اُن ائمہ کرام نے جو ہم میں سے علم میں زائد اور زمانے میں مقدم اور عمر میں بڑے تھے متشا بہات میں سکوت فرمایا تو ہمیں ساکت رہنا اور ان کے معنی کچھ نہ کہنا اور زیادہ لائق تھا مگر ہمارے زمانے میں دو گروہ پیدا ہوئے ایك تو اس قسم کی حدیثوں کو سرے سے رَد کرتا اور جھوٹ بتاتا ہے،اس میں علمائے رواۃ احادیث کی تکذیب لازم آتی ہے،حالانکہ وہ دین کے امام ہیں اور سنتوں کے ناقل اور نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تك ہمارے وسائط و رسائل۔اور دوسرا گر وہ ان روایتوں کو مان کر ان کے ظاہری معنی کی طرف ایسا جاتا ہے کہ اس کا کلام اﷲ عزوجل کو خلق سے مشابہ کردینے تك پہنچنا چاہتا ہے اور ہمیں یہ دونوں باتیں ناپسند ہیں ہم ان میں سے کسی کو مذہب بنانے پر راضی نہیں،تو ہمیں ضرور ہوا کہ اس باب میں |
[1] کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی قول اﷲ عزوجل الرحمن علی العرش المکتبۃ الاثر یہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۵۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع