30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وعائشۃ وعروۃ بن الزبیر رضی اﷲ تعالٰی عنہم،و روایۃ طاؤس عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما و بہ قال الحسن واکثر التابعین واختارہ الکسائی و الفراء والاخفش(الٰی ان قال)ومما یصدق ذلك قراء ۃ عبد ﷲ ان تاویلہ الا عند اﷲ والراسخون فی العلم یقولون اٰمنّاو فی حرف ابی ویقول الراسخون فی العلم اٰمنّا بہ،وقال عمر بن عبدالعزیز فی ھٰذہ الایۃ انتھی علم الراسخین فی العلم تاویل القرآن الٰی ان قالواٰمنّا بہ کل من عند ربنا وھٰذا القول اقیس فی العربیۃ واشبہ بظاھر الاٰیۃ۔[1] |
یہی قول حضرت سیدّ قاریان صحابہ ابی بن کعب اور حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ اور عروہ بن زبیررضی اﷲ تعالٰی عنہم کا ہے،اور یہی امام طاؤس نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا،اور یہی مذہب امام حسن بصری و اکثر تابعین کاہے،اور اسی کو امام کسائی وفراء واخفش نے اختیار کیا اور اس مطلب کی تصدیق حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی اس قراء ت سے بھی ہوتی ہے کہ آیات متشابہات کی تفسیر اﷲ عزوجل کے سوا کسی کے پاس نہیں، اور پکے علم والے کہتے ہیں ہم ایمان لائے اور ابی بن کعب رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی قراء ت بھی اسی معنی کی تصدیق کرتی ہے۔امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا ان کی تفسیر میں محکم علم والوں کا منتہائے علم بس اس قدر ہے کہ کہیں ہم ان پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے اور یہ قول عربیت کی رُو سے زیادہ دلنشین اور ظاہر آیت سے بہت موافق ہے۔ |
(۴)مدارك التنزیل میں ہے۔
|
منہ اٰیت محکمٰت احکمت عبارتھا بان حفظت من الاحتمال و |
یعنی قرآن عظیم کی بعض آیتیں محکمات ہیں جن کے معنی صاف ہیں احتمال و اشتباہ کو ان میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع