30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چہارم:استواء بمعنی فراغ وتمامی کار ہے یعنی سلسلہ خلق وآفرینش کو عرش پر تمام فرمایا اس سے باہر کوئی چیز نہ پائی،دنیا وآخرت میں جو کچھ بنایا اور بنائے گا دائرہ عرش سے باہر نہیں کہ وہ تمام مخلوق کو حاوی ہے۔قرآن کی بہترتفسیر وہ ہے وہ قرآن سے ہو۔ استواء بمعنی تمامی خود قرآن عظیم میں ہے،قال اﷲ تعالٰی:
|
" وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَاسْتَوٰۤی"[1] |
جب اپنی قوت کے زمانے کو پہنچا اور اس کا شباب پورا ہوا۔ |
اسی طرح قولہ تعالٰی:
|
" کَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْاَہٗ فَاٰزَرَہٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰی عَلٰی سُوۡقِہٖ " [2]۔ |
جیسے پودا کہ اس کا خوشہ نکلا تو اس کو بوجھل کیا تو وہ موٹا ہوا تو وہ اپنے تنے پر درست ہوا۔(ت) |
میں استواء حالتِ کمال سے عبارت ہے،یہ تاویل امام حافظ الحدیث ابن الحجر عسقلانی نے امام ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال سے نقل کی اور یہ کلام امام ابوطاہرقزوینی کا ہے کہ سراج العقول میں افادہ فرمایا،اور امام عبدالوہاب شعرانی کی کتاب الیواقیت[3] میں منقول۔
اقول:(میں کہتاہوں،ت)اور اس کے سوا یہ ہے کہ قرآن عظیم میں یہ استواء سات جگہ مذکور ہوا،ساتوں جگہ ذکر آفرینش آسمان و زمین کے ساتھ اور بلافصل اُس کے بعد ہے،سورہ اعراف وسورہ یونس علیہ الصلوۃ والسلام میں فرمایا۔
|
" اِنَّ رَبَّکُمُ اللہُ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضَ فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ۟"[4] |
تمہارا رب وہ ہے جس نے آسمانوں ا ور زمین کو پیدا کیا چھ دنوں میں پھر عرش پر استوا فرمایا(ت) |
سورہ رعد میں فرمایا:
|
" اَللہُ الَّذِیۡ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیۡرِ عَمَدٍ |
اﷲ تعالٰی وہ ذات ہے جس نے آسمانوں کو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع