30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے کہ سوال نہ ہوگا مگر تعیین مراد کے لیے اور تعین مراد کی طرف راہ نہیں اور بعض نے خیال کیا کہ جب اﷲ عزوجل نے محکم متشابہ دو۲ قسمیں فرما کر محکمات کو " ہُنَّ اُمُّ الْکِتٰبِ"[1]فرمایا کہ وہ کتاب کی جڑ ہیں۔اور ظاہر ہے کہ ہر فرع اپنی اصل کی طرف پلٹتی ہے تو آیہ کریمہ نے تاویل متشا بہات کی راہ خود بتادی اور ان کی ٹھیك معیار ہمیں سجھادی کہ ان میں وہ درست وپاکیز ہ احتمالات پیدا کرو جن سے یہ اپنی اصل یعنی محکمات کے مطابق آجائیں اور فتنہ و ضلال و باطل و محال راہ نہ پائیں۔یہ ضرور ہے کہ اپنے نکالے ہوئے معنی پر یقین نہیں کرسکتے کہ اﷲ عزوجل کی یہی مراد ہے مگر جب معنی صاف و پاکیزہ ہیں اور مخالفت محکمات سے بری و منزہ ہیں اور محاورات عرب کے لحاظ سے بن بھی سکتے ہیں تو احتمالی طور پر بیان کرنے میں کیا حرج ہے اور اس میں نفع یہ ہے کہ بعض عوام کی طبائع صرف اتنی بات پر مشکل سے قناعت کریں کہ انکے معنی ہم کچھ نہیں کہہ سکتے اور جب انہیں روکا جائے گا تو خواہ مخواہ ان میں فکر کی اور حرص بڑھے گی۔
|
ان ابن ادم عــــــہ لحریص علٰی مامنع [2] |
انسان کو جس چیز سے منع کیا جائے وہ اس پر حریص ہوتا ہے۔(ت) |
اور جب فکر کریں گے فتنے میں پڑیں گے گمراہی میں گریں گے،تو یہی انسب ہے کہ ان کی افکار ایك مناسب و ملائم معنی کی طرف کہ محکمات سے مطابق محاورات سے موافق ہوں پھیردی جائیں کہ فتنہ و ضلال سے نجات پائیں یہ مسلك بہت علمائے متاخرین کا ہے کہ نظر بحال عوام اسے اختیار کیا ہے اسے مسلك تاویل کہتے یہ علماء بوجوہ کثیر تاویل آیت فرماتے ہیں ان میں چار وجہیں نفیس و واضح ہیں۔
اول:ا ستواء بمعنی قہرو غلبہ ہے،یہ زبان عرب سے ثابت و پیدا ہے عرش سب مخلوقات سے اوپر اور اونچا ہے اس لیے اس کے ذکر پر اکتفا فرمایا اور مطلب یہ ہوا کہ اﷲ تمام مخلوقات پر قاہر و غالب ہے۔
|
عــــــہ:رواہ الطبرانی [3] ومن طریقہ الدیلمی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ |
اس کو طبرانی نے روایت کیا اور دیلمی نے طبرانی کے طریق پر ابن عمر رضی اﷲ عنہما سے انہوں نے نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع