30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سمجھ ہے جس کا حکم خدا پر لگا رہے۔" مَّاۤ اَنۡزَلَ اللہُ بِہَا مِنۡ سُلْطٰنٍ ؕ"[1]۔ (اﷲ تعالٰی نے اس پر کوئی دلیل نازل نہ فرمائی۔ت)اگر بالفرض قرآن مجید میں یہی الفاظ چڑھنا،بیٹھنا،ٹھہرنا آتے تو قرآن ہی کے حکم سے فرض قطعی تھا کہ انہیں ان ظاہری معنی پر نہ سمجھو جو ان لفظوں سے ہمارے ذہن میں آتے ہیں کہ یہ کام تو اجسام کے ہیں اور اﷲ تعالٰی جسم نہیں مگر یہ لوگ اپنی گمراہی سے اسی معنی پر جم گئے انہیں کو قرآن مجید نے فرمایا۔
|
" الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمْ زَیۡغٌ"[2]۔ |
ان کے دل پھرے ہوئے ہیں۔ |
اور جو لوگ علم میں پکے اور اپنے رب کے پاس سے ہدایت رکھتے تھے وہ سمجھے کہ آیات محکمات سے قطعًا ثابت ہے کہ اﷲ تعالٰی مکان وجہت و جسم و اعراض سے پاك ہے بیٹھنے،چڑھنے،بیٹھنے سے منزہ ہے کہ یہ سب باتیں اس بے عیب کے حق میں عیب ہیں جن کا بیان ان شاء اﷲ المستعان عنقریب آتا ہے اور وہ ہر عیب سے پاك ہے ان میں اﷲ عزوجل کے لیے اپنی مخلوق عرش کی طرف حاجت نکلے گی اور وہ ہر احتیاج سے پاك ہے ان میں مخلوقات سے مشابہت ثابت ہوگی کہ اٹھنا،بیٹھنا، چڑھنا، اترنا، سرکنا ٹھہرنا اجسام کے کام ہیں اور وہ ہر مشابہت خلق سے پاك ہے تو قطعًا یقینًا ان لفظوں کے ظاہری معنی جو ہماری سمجھ میں آتے ہیں ہر گز مراد نہیں،پھر آخر معنی کیا لیں۔اس میں یہ ہدایت والے دوروش ہوگئے۔اکثر نے فرمایا جب یہ ظاہری معنی قطعًا مقصود نہیں اور تاویلی مطلب متعین و محدود نہیں تو ہم اپنی طرف سے کیا کہیں،یہی بہتر کہ اس کا علم اﷲ پر چھوڑیں ہمیں ہمارے رب نے آیاتِ متشابہات کے پیچھے پڑنے سے منع فرمایا اور ان کی تعیین مراد میں خوض کرنے کو گمراہی بتایا تو ہم حد سے باہر کیوں قدم دھریں،اسی قرآن کے بتائے حصے پر قناعت کریں کہ " اٰمَنَّا بِہٖۙ کُلٌّ مِّنْ عِنۡدِ رَبِّنَاۚ"[3]۔ جو کچھ ہمارے مولٰی کی مراد ہے ہم اس پر ایمان لائے محکم متشابہ سب ہمارے رب کے پاس سے ہے،یہ مذہب جمہورائمہ سلف کا ہے اور یہی اسلم واولٰی ہے اسے مسلك تفویض و تسلیم کہتے ہیں،ان ائمہ نے فرمایا استواء معلوم ہے کہ ضرور اﷲ تعالٰی کی ایك صفت ہے اور کیف مجہول ہے کہ اس کے معنی ہماری سمجھ سے وراء ہیں،اور ایمان اس پر واجب ہے کہ نص قطعی قرآن سے ثابت ہے اور سوال اس سے بدعت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع