30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور اس کے فائدے میں لکھا:اﷲ صاحب فرماتا ہے کہ ہر کلام میں اﷲ نے بعضی باتیں رکھی ہیں جن کے معنی صاف نہیں کھلتے تو جو گمراہ ہو اُن کے معنی عقل سے لگے پکڑنے اور جو مضبوط علم رکھے وہ ان کے معنی اور آیتوں سے ملا کر سمجھے جو جڑ کتاب کی ہے اس کے موافق سمجھ پائے تو سمجھے اور اگر نہ پائے تو اﷲ پر چھوڑ دے کہ وہی بہترجانے ہم کو ایمان سے کام ہے [3]انتہی۔
اقول:(میں کہتا ہوں،ت)بات یہ ہے کہ اﷲ تعالٰی نے قرآن مجید اتارا ہے ہدایت فرمانے اور بندوں کو جانچنے آزمانے کو، " یُضِلُّ بِہٖ کَثِیۡرًاۙ وَّیَہۡدِیۡ بِہٖ کَثِیۡرًا ؕ"[4]۔اسی قرآن سے بہتوں کو گمراہ فرمائے اور بہتیروں کو راہ دکھائے۔
اس ہدایت وضلالت کا بڑا منشا قرآن عظیم کی آیتوں کا دو قسم ہونا ہے:محکمات جن کے معنی صاف بے دقت ہیں جیسے ا ﷲ تعالٰی کی پاکی و بے نیازی و بے مثلی کی آیتیں جن کا ذکر اوپر گزرا،اور دوسری متشا بہات جن کے معنٰی میں اشکال ہے یا تو ظاہر لفظ سے کچھ سمجھ ہی نہیں آتا جیسے حروفِ مقطعات الم وغیرہ یا جو سمجھ میں آتا ہے وہ اﷲ عزوجل پر محال ہے،جیسے " اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی ﴿۵﴾ " ۔ [5] (وہ بڑا مہروالا اس نے عرش پر استواء فرمایا۔ت)یا " ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ۟"[6]۔ (پھر اس نے عرش پر استواء فرمایا۔ت)
پھر جن کے دلوں میں کجی و گمراہی تھی وہ تو ان کو اپنے ڈھب کا پاکر ان کے ذریعہ سے بے علموں کو بہکانے اور دین میں فتنے پھیلانے لگے کہ دیکھو قرآن میں آیا ہے اﷲ عرش پر بیٹھا ہے،عرش پر چڑھا ہوا ہے،عرش پر ٹھہر گیا ہے۔اور آیاتِ محکمات جو کتاب کی جڑ تھیں اُن کے ارشاد دل سے بھلادیئے حالانکہ قرآن عظیم میں تو استواء آیا ہے اور اس کے معنی چڑھنا،بیٹھنا، ٹھہرنا، ہونا کچھ ضرور نہیں یہ تو تمہاری اپنی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع