30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہیں رکھتا۔
(۳)مخلوق کی مشابہت سے منزہ ہے۔
(۴)اس میں تغیر نہیں آسکتا،ازل میں جیسا تھا ویسا ہی اب ہے اور ویسا ہی ہمیشہ ہمیشہ رہے گا،یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ پہلے ایك طور پر ہو پھر بدل کر اور حالت پر ہوجائے۔
(۵)وہ جسم نہیں جسم والی کسی چیز کو اس سے لگاؤ نہیں۔
(۶)اُسے مقدار عارض نہیں کہ اِتنا یا اُتنا کہہ سکیں،لمبا چوڑا یا دَلدار یا موٹا یا پتلا یا بہت یا تھوڑا یا گنتی یا تول میں بڑا یا چھوٹا یا بھاری یا ہلکا نہیں۔
(۷)وہ شکل سے منزّہ ہے،پھیلا یا سمٹا،گول یا لمبا،تکونا یا چوکھونٹا،سیدھا یا ترچھا یا اور کسی صورت کا نہیں۔
(۸)حد و طرف و نہایت سے پاك ہے اور اس معنی پر نامحدود بھی نہیں کہ بے نہایت پھیلا ہوا ہو بلکہ یہ معنی کہ وہ مقدار وغیرہ تمام اعراض سے منزہ ہے،غرض نامحدود کہنا نفی حد کے لیے ہے نہ اثبات بے مقدار بے نہایت کے لیے۔
(۹)وہ کسی چیز سے بنا نہیں۔
(۱۰)اس میں اجزا یا حصے فرض نہیں کرسکتے۔
(۱۱)جہت اور طرف سے پاك ہے جس طرح اُسے دہنے بائیں یا نیچے نہیں کہہ سکتے یونہی جہت کے معنی پر آگے پیچھے یا اُوپر بھی ہر گز نہیں۔
(۱۲)وہ کسی مخلوق سے مل نہیں سکتا کہ اس سے لگا ہوا ہو۔
(۱۳)کسی مخلوق سے جُدا نہیں کہ اُس میں اور مخلوق میں مسافت کا فاصلہ ہو۔
(۱۴)اُس کے لیے مکان اور جگہ نہیں۔
(۱۵)اُٹھنے،بیٹھنے،اُترنے،چڑھنے،چلنے،ٹھہرنے وغیرہا تمام عوارض جسم و جسمانیات سے منزّہ ہے۔
محل تفصیل میں عقائد تزیہہ بے شمار ہیں،یہ پندرہ۱۵ کہ بقدر حاجت یہاں مذکور ہوئے اور انکے سوا ان جملہ مسائل کی اصل یہی تین عقیدے ہیں جو پہلے مذکور ہوئے اور ان میں بھی اصل الاصول عقیدہ اولی ہے کہ تمام مطالب تنزیہیہ کا حاصل و خلاصہ ہے ان کی دلیل قرآن عظیم کی وہ سب آیات ہیں جن میں باری عزوجل کی تسبیح وتقدیس و پاکی و بے نیازی و بے مثلی و بے نظیری ارشاد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع