30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اہلسنت کے دو۲ مسلك آیاتِ متشابہات میں ہیں سلف صالح کا مسلك تفویض کا،ہم نہ ان کے معنی جانیں ن ان سے بحث کریں جو کچھ اُن کے ظاہر سے سمجھ میں آتا ہے،وہ قطعًا مراد نہیں اور جو کچھ ان کے رب عزوجل کی مراد ہے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔
|
" کُلٌّ مِّنْ عِنۡدِ رَبِّنَاۚ"[1]۔ |
ہم سب اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے۔ |
دوسرا مسلك متاخرین کا کہ حفظ دین عوام کے لیے معنی محال سے پھیر کر کسی قریب معنی صحیح کی طرف لے جائیں،مثلًا استواء بمعنی استیلا بھی آتا ہے۔
قد استوی بشر علی العراق من غیر سیف اودم مھرا ق[2]
(تحقیق بشر عراق پر غالب آگیا تلوار کے ساتھ خون بہائے بغیر۔ت)
مگر یہ مسلك باطل کہ آیات معیت تو تاویل پر محمول ہیں اور آیت استواء ظاہر پر یہ ہر گز مسلك اہل سنت نہیں،عرش پر ہے دوسری جگہ نہیں،یہ صاف تمکن کو بتارہا ہے عرش پر معاذ اﷲ اس کے لیے جگہ ثابت کی جب تو اور مکانات کی نفی کی، عالمگیریہ،طریقہ محمدیہ،حدیقہ ندیہ،تاتارخانیہ،خلاصہ،جامع الفصولین،خزانۃ المفتین وغیرہا میں تصریح ہے کہ رب عزوجل کے لیے کسی طرح کسی جگہ مکان ثابت کرنا کفر ہے۔متاخرین حنابِلہ میں بعض خبثاء مجسمہ ہوگئے جیسے ابن تیمیہ وابن قیم،ابن تیمیہ کہتا ہے کہ میں نے سب جگہ ڈھونڈا کہیں نہ پایا اور معدوم ہے ان دونوں میں کچھ فرق نہیں یعنی جو کسی جگہ نہیں ہے وہ ہے ہی نہیں لیکن رب عزوجل تو معاذ اﷲ ضرور کسی جگہ ہے،اس احمق سفیہ کو اگر مادی اور مجردعن المادہ کا فرق نہ معلوم ہو تو وہ سیف قاطع جو اوپر ہم نے ذکر کی اس کی گردن کاٹنے کو کافی جگہ حادث ہے جب جگہ تھی ہی نہیں کہاں تھا وہ شاید یہ کہے گا کہ جب جگہ نہ تھی وہ بھی نہ تھا یا یہ کہے گا کہ جگہ بھی قدیم ازلی ہے اور دونوں کفر ہیں جب اُس کا معبود اس کے نزدیك بغیر کسی جگہ میں موجود ہوئے نہیں ہوسکتا تو جگہ کا محتاج ہوا،اور جو محتاج ہے الله نہیں تو حقیقۃً ان پر انکار خدا ہی لازم ہے ایسے عقیدے والے کے پیچھے نماز ممنوع و ناجائز ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
_________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع