30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہاں واجب،مثلًا ایك فعل امام شافعی کے یہاں جائز ہے اور ہمارے امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کے یہاں ناجائز،اور کچھ لوگ اس فعل کو کرتے ہیں اور ہم بچتے ہیں،اور یہ بھی سُنا ہے کہ خدا کے حرام کو حلال جاننے والا کافر،اور یہ بھی سُنا ہے کہ غیر مقلد کے پیچھے نماز ناجائز نہیں ہے بلکہ مکروہ ہے،حضور اس کی تسکین ہو۔
دوسرے یہ کہ جناب باری نے اپنے محبوب کو سب مراتب عنایت فرمائے ہیں اکثر وہابیہ کا جھگڑا سُننے کو ملتا ہے تو حضرت بی بی عائشہ رضی الله تعالٰی عنہا کی مثال پیش کرتے ہیں تہمت والی،میرے حضور ! گزارش یہ ہے کہ بعض موقع پر جنابِ باری کی طرف سے پردہ ہوتا تھا یا کیا؟
الجواب:
قرآن عظیم میں بے شك سب کچھ موجود ہے مگر اُسے کوئی نہ سمجھ سکتا اگرحدیث اس کی شرح نہ فرماتی۔ قال اﷲ تعالٰی:
|
" لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیۡہِمْ "[1]۔ |
تاکہ تم لوگوں سے بیان کردو جو اُن کی طرف اُترا(ت) |
اور حدیث بھی کوئی نہ سمجھ سکتا اگر ائمہ مجتہدین اس کی شرح نہ فرماتے،ان کی سمجھ میں مدارج مختلف ہیں،نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
ربّ مبلّغ یبلغہ اوعی لہ من سامع۔[2] |
بہت سے لوگ جن تك بات پہنچائی جاتی وہ سننے والے سے زیادہ اس کو یاد رکھنے والے ہوتے ہیں۔(ت) |
اور فرماتے ہیں:
|
ربّ حامل فقہ الٰی من ھو افقہ منہ۔[3] |
بہت سے فقہ اُٹھانے والوں سے وہ زیادہ فقیہ ہوتا ہے جس کو وہ پہنچاتے ہیں۔(ت) |
اس تفقّہ فی الدین میں اختلافِ مراتب باعثِ اختلاف ہوا اور ادھر مصلحت الہیہ احادیث
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع