30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بر قبر مطلع و مستانس میگردند زیرا کہ روح را قرب و بعد مکانی مانع ایں دریافت نمی شود،و مثال آں دروجودِ انسانی روحِ بصری ست کہ ستارہ ہائے ہفت آسمان در ون چاہ مے توانددید۔[1] |
آنے والے عزیز و اقارب اور دوستوں سے آگاہ ہوتے ہیں اور ان سے انس حاصل کرتے ہیں کیونکہ مکانی قرب و بعد روح کے لیے اس دریافت و علم سے مانع نہیں ہوتا،اس کی مثال انسانی وجود میں روحِ بصری ہے جو ساتویں آسمان کے ستاروں کو چاہ کے اندر دیکھ سکتی ہے۔(ت) |
حیاتِ شہداء قرآن عظیم سے ثابت ہے اور شہداء سے علماء افضل،حدیث میں ہے۔روز قیامت شہداء کا خون اور علماء کی دوات کی سیاہی تو لے جائیں گے علماء کی دوات کی سیاہی شہداء کے خون پر غالب آئے گی۔[2]
اور علماء سےاولیاء افضل ہیں،تو جب شہداء زندہ ہیں اور فرمایا کہ انہیں مردہ نہ کہو،تو اولیاء کہ بدرجہا ان سے افضل ہیں ضرور ان سے بہتر حی ابدی ہیں،قرآن کریم کے ایجازات میں یہ بھی ہے کہ امرارشاد فرماتے ہیں اور اس سے اس کے امثال اور اس سے امثل پر دلالت فرمادیتے ہیں۔جیسے:
|
" فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ وَّلَا تَنْہَرْہُمَا"[3] |
ان سے ہُوں نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا(ت) |
ماں باپ کو ہُوں کہنے سے ممانعت فرمائی جو کچھ ا سے زیادہ ہو وہ خود ہی منع ہوگیا،اور یہیں دیکھئے حیاتِ شہداء کی تصریح فرمائی اور حیاتِ انبیاء کا ذکر نہیں کہ اعلٰی خود ہی مفہوم ہوجائے گا اس دلالۃ النص میں اولیاء بلاشبہہ داخل۔
حضرت سیدناغوث اعظم رضی الله تعالٰی عنہ ضرور دستگیر ہیں،اور حضرت سلطان الہند معین الحق والدین ضرور غریب نواز، سیدنا ابوالحسن نورالدین بہجۃ الاسرار شریف میں سیدنا ابوالقاسم عمر بزاز قدس سرہ سے روایت فرماتے ہیں:
|
قال سمعت السیدالشیخ عبدالقادر |
یعنی میں نے اپنے مولٰی حضرت سید شیخ عبدالقادر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع