30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
اہلسنت کا مذہب یہ ہے کہ روح انسانی بعد موت بھی زندہ رہتی ہے،موت بدن کے لیے ہے روح کے لیے نہیں،انما خلقتم للابد تم[1]ہمیشہ رہنے کے لیے بنائے گئے ہو۔امام جلال الدین سیوطی شرح الصدور میں بعض ائمہ کرام سے نقل فرماتے ہیں کہ کسی نے ان کے سامنے موت و روح کا ذکر کیا،فرمایا:
|
سبحٰن اﷲ ھذا قول اھل البدع [2] |
سبحان اﷲ ! یہ بدمذہبوں کا قول ہے۔ |
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
|
" کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ ؕ"[3]۔ |
ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے۔ |
موت جب تك واقع نہ ہوئی معدوم کا مزہ کہاں سے آیا اور جب واقع ہوئی اگر روح مرجائے تو موت کا مزہ کون چکھے یوں ہی اہلسنت و جماعت کا اجماع اور صحیح حدیثوں کی تصریح ہے کہ ہر میت اپنی قبرپر آنے والے کو دیکھتا اور اس کا کلام سنتا ہے،موت کے بعد سمع بصر،علم ادراک،سب بدستور باقی رہتے ہیں بلکہ پہلے سے بہت زیادہ ہوجاتے ہیں،کہ یہ صفتیں روح کی تھیں اور روح اب بھی زندہ ہے پہلے بدن میں مقید تھی اور اب اس قید سے آزاد ہے،اولیائے کرام سے اس طرح عرض حاجت بلاشبہ جائز ہے،امام اجل ثقی الملۃ والدین علی بن عبدالکافی سبکی قدس سرہ الملکی نے کتاب مستطاب شفاء السقام اور شیخ محقق مولٰنا عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ الله تعالٰی علیہ نے اشعۃ اللمعات اور دیگر اکابر نے اپنی تصنیفات میں ان مسائل کی تحقیق جلیل فرمائی۔شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی تفسیر عزیزی میں زیر آیہ کریمہ والقمر اذا اتسق لکھتے ہیں:
|
بعضے از خواص اولیاء اﷲ را کہ آلہ جارحہ تکمیل وارشاد بنی نوع خود گردانیدہ انددریں حالت ہم تصرف دردنیا |
اﷲ تعالٰی کے بعض خاص اولیاء ہیں جن کو بندوں کی تربیت کاملہ اور رہنمائی کے لیے ذریعہ بنایا گیا ہے،انہیں اس حالت میں بھی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع