30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی مسئلہ اشارہ میں روایت کیدانی پیش کی جاتی ہے۔جناب مجدد صاحب نے فتاوٰی غرائب و جامع الرموز وخزانۃ الروایات وغیرہا پیش کیں۔وہ بات ایك ہی ہے۔یعنی فقہی روایت کے مقابل حدیث نہ ماننا۔اب دیکھ لیجئے حضرت مجدد کا روایت فقہی لانا اوراُن کے سبب صحیح حدیثوں پر عمل نہ فرمانا۔اور میاں جی صاحب دہلوی کا بے دھڑك شرك کی جڑ جاننا۔خدا ایسے شرك پسندوں کے سائے سے بچائے۔خیر یہ تو میاں جی جانیں اور ان کا کام،
کلامِ جناب مجدد صاحب کے فوائد سنیے:
اوّل۱:بڑا بھاری فائدہ تو یہ ہوا۔
دوم۲:حضرت موصوف نے یہ بھی فرمادیا کہ اقوال امام کے مقابل ایسی معروف حدیثیں جیسی رفع یدین و قراء ت مقتدی وغیرہما میں آئیں کہ کسی طرح احادیث اشارہ سے اشتہار میں کم نہیں وہی پیش کرے گا جو نرا گاؤوی کودن بے عقل ہویا معاند مکابرہٹ دھرم کہ نہ وہ حدیثیں امام سے چھپ رہنے کی تھیں۔نہ معاذ اﷲ امام اپنی رائے سے حدیث کا خلاف کرنے والے،تو ضرور کسی دلیل قوی شرعی سے ان سے عمل نہ فرمایا۔
سوم۳:یہ بھی فرمادیا کہ ہمیں جواب احادیث معلوم ہوجانا کچھ ضرور نہیں۔اس قدر اجمالًا جان لینا بس ہے کہ ہمارے عالموں کے پاس وجہ موجود ہوگی۔
چہارم۴:یہ بھی فرمادیا کہ ہمارے علم میں کسی مسئلہ مذہب پر دلیل نہ ہونا درکناراگر صراحۃً اس کے خلاف پر ہمیں دلیل معلوم ہو جب بھی ہمارا علم کچھ معتبر نہیں اُسی مسئلہ مذہب پر عمل رہے گا۔
پنجم۵:یہ بھی فرمادیا کہ ہمارے علمائے سلف رضی اﷲ تعالٰی عنہم کو جیسا علمِ حدیث تھا جیسا وہ صحیح و ضعیف و منسوخ و ناسخ پہچانتے تھے بعد کے لوگ ان کی برابری نہیں کرسکتے کہ نہ انہیں ویسا علم نہ یہ اس قدر زمانہ رسالت سے قریب،جب حضرت مجدد اپنے زمانہ کو ایسا فرمائیں۔تو اب تو اس پر بھی تین سو برس گزر گئے۔آج کل کے الٹے سیدھے چند حرف پڑھنے والے کیا برابری ائمہ کی لیاقت رکھتے ہیں۔
ششم۶:اس شرط کی بھی تصریح فرمادی کہ امام کے وہ اقوال منقولہ سوال خاص اُسی حدیث کے باب میں ہیں جو امام کو نہ پہنچی، اور اس سے مخالف بربنائے عدمِ اطلاع ہوئی نہ یہ کہ اصول مذہب پر وہ بوجوہ مذکورہ کسی وجہ سے مرجوع یا مؤول یا متروك العمل تھی کہ یوں تو بحالِ اطلاع بھی مخالفت ہوتی۔کمالایخفٰی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)
ہفتم۷:جناب مجدد صاحب کی شان علم سے تو ان حضرات کو بھی انکار نہ ہوگا۔یہی مرزا جانجاناں صاحب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع