30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
درجواز وعدم جواز واقع شود ترجیح عدمِ جواز رااست۔[1]ملتقطًا |
اس کے خلاف حکم فرمایا ہے اور اشارے کی حدیث اس قبیلہ سے نہیں۔ اگر کہیں کہ علمائے حنفیہ نے جوازِ اشارہ کا فتوٰی دیا ہے۔لہذا متعارض فتاوٰی کے مطابق جس بات پر بھی عمل کرلیا جائے جائز ہے۔ہم کہتےہیں کہ اگر جواز و عدم جواز اور حلت و حرمت میں تعارض واقع ہو تو تعارض کی صورت میں ترجیح عدم جواز اور جانب حرمت کی ہوتی ہے اھ التقاط (ت) |
نیز جناب موصوف کے رسالہ مبد و معاد سے منقول ہے:
|
مدّتے آرزوئے آں داشت کہ وجہے پیدا شود در مذہب حنفی تادرخلفِ امام قراءتِ فاتحہ نمودہ آید،امابواسطہ رعایت مذہب بے اختیار ترك قراء ت مے کرد وایں ترك را از قبیل ریاضت مے شمرد،آخر الامر اﷲ تعالی ببرکت رعایت مذہب کہ نقل از مذہب الحادست،حقیقت مذہب حنفی در ترك قراءت ماموم ظاہر ساخت و قراء ت حکمی از قراء تِ حقیقی در نظرِ بصیرت زیبا تر نمود۔[2] |
مجھے ایك عرصہ تك آرزو رہی کہ امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنے کی مذہب حنفی میں کوئی وجہ ظاہر ہوجائے،مگر بواسطہ رعایت مذہب بے اختیار ترك قراء ت کرتا رہا اور اس ترك کو ریاضت کے قبیلے سے شمار کرتا رہا۔آخر اﷲ تعالٰی نے رعایت مذہب کی برکت سے(کیونکہ مذہب کی مخالفت الحاد ہے)مقتدی کی ترك قراء ت کے بارے میں مذہب حنفی کی حقانیت ظاہر فرمائی اور قراء ت حکمی کو نظر بصیرت میں قراء ت حقیقی سے خوب تر دکھایا(ت) |
ہاں صاحب! ان بزرگوں کے اقوال کی خبریں کہیے۔ان بزرگوں کے بزرگ،بڑوں کے بڑے اماموں کے امام کیا کچھ فرمارہے ہیں،ادعائے باطل عمل بالحدیث پر کیا کیا بجلیاں توڑتے گھنگھور بادل گرمارہے ہیں۔
اوّلًا: تصریحًا تسلیم فرمایا کہ التحیات میں انگلی اٹھانا سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی بہت حدیثوں میں وارد۔
ثانیًا: وہ حدیثیں معروف و مشہور ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع