30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مانیں اور انہیں معاذا ﷲ دائرہ عقل سے خارج جانیں،حالانکہ ان دونوں صاحبوں کے ہادی بالامرشد اعلٰی دونوں صاحبوں کے آقائے نعمت مولائے بیعت دونوں صاحبوں کے امام ربانی جناب شیخ مجدد الف ثانی صاحب اپنے مکتوبات جلد اول مکتوب ۳۱۲ میں فرماتے ہیں:
|
مخدوما ! احادیث نبوی علی مصدرہا الصلوۃ والسلام دربابِ جواز اشارت سبابہ بسیار وارد شدہ اندو بعضے از روایات فقہیہ حنفیہ نیز دریں باب آمدہ وغیر ظاہر مذہب است،وآنچہ امام محمد شیبانی گفتہ کان رسول اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یشیرو نصنع کما یصنع النبی علیہ وعلٰی الہ الصلوۃ والسلام ثم قال ھذا قولی وقول ابی حنفیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما ازروایات نوادر است نہ روایات اصول،ہ رگاہ در روایات معتبرہ حرمت اشارہ واقع شد باشد،وبرکراہت اشارتِ فتوٰی دادہ باشند،مامقلدان رانمی رسد کہ بمقضائے احادیث عمل نمودہ جرات دراشارت نمائیم مرتکبِ ایں امراز حنیفہ یا علمائے مجتہدین راعلم احادیث معروفہ جواز اشارت اثبات نمی آیدیا انگارد کہ اینہا بمقضاء آراء خود برخلافِ احادیث حکم کردہ اند،ہر دو شق فاسد است تجویز نہ کندآنرا مگر سفیہ یا |
اے مخدومِ گرامی ! احادیثِ نبوی(ان کے مصدر پر درود و سلام ہو)تشہد میں اشارہ سبابہ کے جواز کے باب میں بہت وارد ہوئی ہیں اور اس باب میں فقہ حنفی کی بھی بعض روایات آئی ہیں جو کہ ظاہر مذہب کے غیر ہیں۔اور وہ جو امام محمد شیبانی نے کہا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انگلی شہادت سے اشارہ کرتے تھے اور ہم بھی اسی طرح اشارہ کرتے ہیں جس طرح حضور علیہ الصلوۃ والسلام کرتے تھے۔ پھر امام محمد نے فرمایا یہی میرا قول اور امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کا قول ہے روایات نوادر میں سے ہے نہ روایات اصول میں سے،جب کہ معتبر روایات میں اشارے کی حرمت واقع ہوچکی ہے اور اشا رےکے مکروہ ہونےپر فتوی دیا گیا ہے۔ہم مقلدوں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ حدیث کے متقضا کے مطابق عمل کرکے اشارہ کرنے کی جرات کریں۔حنفیہ میں سے اشارہ سبابہ کا ارتکاب کرنے والا دو حال سے خالی نہیں،یا تو ان علمائے مجتہدین کے لیے جوازِ اشارہ میں معروف احادیث کا علم تسلیم نہیں کرتا یا ا ن کو ان احادیث کا عالم جانتا ہے۔لیکن ان بزرگوں کے لیے ان احادیث کے مطابق عمل جائز تسلیم نہیں کرتا۔اور خیال یہ کرتا ہے کہ ان بزرگوں نے اپنے خیالات |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع