30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۴)غریب و منکر میں تفرقہ نہیں۔
(۵)فلان یھم کو وہمی کہنا جانیں۔
(۶)لہ اوھام کا یہی مطلب مانیں
(۷)حدیث مرسل تو مردود و مخذول و عنعنہ مدلس ماخوذ و مقبول
(۸)ستم جہالت کہ وصل متاخر کو تعلیق بتائیں،مثلًا محدث کہے:
|
رواہ مالك عن نافع عن ابن عمر حدثنا بذلك فلان عن فلان عن مالک۔ |
اس کو امام مالك نے نافع سے اور انہوں نے ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کیا،ہم کو ایسے ہی حدیث بیان کی فلاں نے فلاں سے اور اس نے امام مالك سے۔(ت) |
حضرت اسے معلق ٹھہرائیں اور حدّثنا بذٰلك کو ہضم کرجائیں۔
(۹)صحیح حدیثوں کو نری زبان زوریوں سے مردود و منکر و واہیات بتائیں۔
(۱۰)حدیث ضعیف جس کے منکر و معلول ہونے کی امام بخاری وغیرہ اکابرائمہ نے تصریح کی محض بیگانہ تقریرون سے اسے صحیح بنائیں۔
(۱۱)ضعفِ حدیث کو ضعفِ رواۃ پر مقصور جانیں۔ہنگام ثقہ رواۃ علل قوادح کو لاشیئ مانیں۔
(۱۲)معرفتِ رجال میں وہ جوش تمیز کہ امام اجل سلمٰین اعمش عظیم القدر جلیل الفخر تابعی مشہور ومعروف کو سلیمن بن ارقم ضعیف سمجھیں۔
(۱۳)خالد بن الحارث ثقہ ثبت کو خالد بن مخلد قطوانی کہیں۔
(۱۴)ولید بن مسلم ثقہ مشہور کو ولید بن قاسم بنالیں۔
(۱۵)مسئلہ تقوٰی طرق سے نرے غافل۔
(۱۶)راوی مجروح و مرجوع کے فرق بدیہی سے محض جاہل۔
(۱۷)متابع و مدار میں تمیز دو بھر صاف صاف متابعت ثقات،وہ بھی باقرب وجوہ پیش نظر،مگر بعض طرق میں بزعم شریف وقوع ضعیف سے حدیث سخیف۔
(۱۸)جا بجا طریق جلیلہ موضحۃ المعنی مشہور و متداول کتابوں خود صحیحین و سنن اربعہ میں موجود۔انہیں تك رسائی محال،باقی کتب سے جمع طرق و احاطہ الفاظ اور مبانی و معانی کے محققانہ لحاظ کی کیا مجال۔
(۱۹)تصحیح و تصنیف میں قولِ ائمہ جبھی مقبول کہ خود اُن کی تصانیف میں مذکور و منقول،ورنہ نقل ثقات
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع