30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بالجملہ نابالغان رتبہ اجتہاد نہ اصلًا اس کے اہل،نہ ہرگز یہاں مراد،نہ کہ آج کل کے مدعیان خامکار جاہلان بے وقار کہ من و تو کا کلام سمجھنے کی لیاقت نہ رکھیں۔اور اساطین دین الہی کے اجتہاد پر کھیں۔اسی ردالمحتار کو دیکھا ہوتا کہ انہیں امام ابن الشحنہ و علامہ محمد بن محمد البہنسی استاد علامہ نور الدین علی قادری باقانی وعلماہ عمر بن نجیم مصری صاحبِ نہرالفائق و علامہ محمد بن علی دمشقی حصکفی صاحبِ ردمختار وغیرہم کیسے کیسے اکابر کی نسبت صریح کی کہ مخالفت مذہب درکنار،روایات مذہب میں ایك راحج بتانے کے اہل نہیں۔کتاب الشہادات باب القبول میں علامہ سائحانی سے ہے:
|
ابن الشحنۃ لم یکن من اھل الاختیار [1] |
ابن شحنہ اہل اختیار میں سے نہیں تھا۔(ت) |
کتاب الزکوۃ صدقہ فطر میں ہے:
|
البھنسی لیس من اصحاب التصحیح [2] |
البہنسی اصحابِ تصحیح میں سے نہیں(ت) |
کتاب الطلاق باب الحضانہ میں ہے:
|
صاحب النھرلیس من اھل الترجیح [3] |
صاحبِ نہر الفائق اہل ترجیح میں سے نہیں (ت) |
کتاب الرھن میں ایك بحث علامہ شارح کی نسبت ہے:
|
لاحاجۃ الٰی اثباتہ بالبحث والیقاس الذی لسنا اھلا لہ [4] |
اس کو بحث و قیاس کے ساتھ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں جس کے ہم اہل نہیں ہیں۔(ت) |
ان کی بھی کیا گنتی خود اکابر اراکین مذہب اعاظم اجلّہ رفیع الرتب مثل امام کبیر خصاف وامام اجل ابوجعفر طحاوی و امام ابو الحسن کرخی و امام شمس الائمہ حلوانی و امام شمس الائمہ سرخسی وامام فخر الاسلام بزدوی و امام فقیہ النفس قاضیخاں دامام ابوبکر رازی و امام ابوالحسن قدوری و امام برہان الدین فرغانی صاحبِ ہدایہ وغیرہم اعاظم کرام ادخلھم اﷲ تعالٰی فی دارالسلام۔(اﷲ تعالٰی ان کو سلامتی والے گھر میں داخل فرمائے۔(ت)کی نسبت علامہ ابن کمال باشا رحمۃ اﷲ تعالٰی سے تصریح نقل کی۔
[1] ردالمحتار کتاب الشہادات باب القبول وعدمہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۳۸۳
[2] ردالمحتار کتاب الزکوۃ باب صدقۃ الفطر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۷۶
[3] ردالمحتار کتاب الطلاق باب الحضانۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۶۳۷
[4] ردالمحتار کتاب الرھن باب الحضانۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۳۱۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع