30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ولا یخفی ان ذلك لمن کان اھلًا للنظر فی النصوص و معرفۃ محکمھا من منسوخھا فاذانظر اھل المذہب فی الدلیل وعملوابہ صح نسبتہ الی المذاھب۔[1] |
یعنی ظاہر ہے کہ امام کا یہ ارشاد اُس شخص کے حق میں ہے جو نصوصِ شرع میں نظر اور ان کے محکم و منسوخ کو پہچاننے کی لیاقت رکھتا ہو۔تو جب اصحابِ مذہب دلیل میں نظر فرما کر اُس پر عمل کریں،اس وقت اس کی نسبت مذہب کی طرف صحیح ہے۔ |
اور شك نہیں کہ جو شخص اِن چاروں منازل کو طے کر جائے وہ مجتہد فی المذہب ہے،جیسے مذہب مہذب حنفی میں امام ابویوسف و امام محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہما بلاشبہ ایسے ائمہ کو اُس حکم و دعوے کا منصب حاصل ہے اور وہ اس کے باعث اتباع امام سے خارج نہ ہوئے کہ اگرچہ صورۃً اس جزئیہ میں خلاف کیا مگر معنی اذن کلی امام پر عمل فرمایا پھر وہ بھی اگرچہ ماذون بالعمل ہوں۔یہ جزمی دعوٰی کہ اس حدیث کا مفاد خواہی نخواہی مذہب امام ہے،نہیں کرسکتے،نہایت کارظن ہے،ممکن کہ اِن کے مدارك مدارك عالیہ امام سے قاصر رہے ہوں۔اگر امام پر عرض کرتے وہ قبول فرماتے تو مذہب امام ہونے پر تیقن تام وہاں بھی نہیں۔
خود اجل ائمہ مجتہدین فی المذہب قاضی الشرق و الغرب سیدنا امام ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ جن کے مدارجِ رفیعہ حدیث کو موافقین و مخالفین مانے ہوئے ہیں۔امام مزنی تلمیذ جلیل امام شافعی علیہ الرحمۃ نے فرمایا۔
ھو اتبع القوم للحدیث۔[2] (وہ سب قوم سے بڑھ کر حدیث کے پیروکار ہیں۔ت)
امام احمد بن حنبل نے فرمایا:منصف فی الحدیث[3]۔ (وہ حدیث میں منصف ہیں۔ت)
امام یحٰیی بن معین نے بآں تشدّد شدید فرمایا:
|
لیس فی اصحاب الرای اکثر حدیثاو لااثبت من ابی یوسف۔[4] |
اصحاب رائے میں امام ابو یوسف سے بڑھ کر کوئی محدث نہیں اور نہ ہی ان سے بڑھ کر کوئی مستحکم ہے۔ت) |
[1] ردالمحتار مقدمۃ الکتاب داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۶
[2] تذکرۃ الحفاظ الطبقۃ السادسۃ ترجمہ ۲۷۳ ۴۲/ ۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۲۱۴،میزان الاعتدال ترجمہ یعقوب بن ابراہیم ۹۷۹۴ دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۴۴۷
[3] تذکرۃ الحفاظ الطبقۃ السادسۃ ترجمہ ۲۷۳ ۴۲ / ۶ دارالکتب العلمیہ ۱/ ۲۱۴
[4] میزان الاعتدال ترجمہ یعقوب بن ابراہیم ۹۷۹۴ دارالمعرفتہ بیروت ۴/ ۴۴۷،تذکرۃ الحفاظ الطبقۃ السادسۃ ترجمہ ۲۷۳ ۴۲ /۶ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۲۱۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع