30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ میں ہے اس کے متعلق حضرت کی ایسی کاروائیاں وہاں شمار میں آئیں۔باقی مسائل کی کارگزاریاں کس نے گنیں اور کتنی پائیں۔ ع
قیاس کن زگلستانِ اوبہارش را
(اس کے باغ سے اس کی بہار کا اندازہ کرلے۔ت)
بالجملہ موافق مخالف کوئی ذی عقل اس کا انکار نہیں کرسکتا کہ مجرد صحتِ اثری صحت عملی کو مستلزم نہیں بلکہ محال ہے کہ مستلزم ہو۔ورنہ ہنگامِ صحت متعارضین قول بالمتنافیین لازم آئے اور وہ عقلًا ناممکن تو بالیقین اقوال مذکورہ سوال اور ان کے امثال میں صحتِ حدیث سے صحتِ عملی،اور خبر سے وہی خبرواجب العمل عندالمجتہد مراد پھر نہایت اعلٰی بدیہات سے ہے کہ اگر کوئی حدیث مجتہد نے پائی اور براہِ تاویل خواہ دیگر وجوہ سے اُس پر عمل نہ کیا تو وہ حدیث اس کا مذہب نہیں ہوسکتی،ورنہ وہی استحالہ عقلی سامنے آئے کہ وہ صراحۃً اس کا خلاف فرماچکا تو آفتاب سے روشن تروجہ پر ظاہر ہوا کہ کوئی حدیث بزعم خود مذہب امام کے خلاف پا کر بحکم اقوال مذکورہ امام دعوٰی کردینا کہ مذہبِ امام اس کے مطابق ہے،دوا امرپر موقوف۔
اوّلًا:یقینا ثابت ہو کہ یہ حدیث امام کو نہ پہنچی تھی
کہ بحال اطلا ع مذہب اس کے خلاف ہے نہ اس کے موافق۔
لاجرم علامہ زرقانی نے شرح موطا شریف میں تصریح فرمائی:
|
قد علم ان کون الحدیث مذھبہ محلہ اذا علم انہ لم یطلع علیہ اما اذا احتمل اطلاعہ علیہ وانہ حملہ علی محمل فلایکون مذھبہ۔[1] |
یعنی ثابت ہوچکا ہے کہ کسی حدیث کا مذہب مجتہد ہونا صرف اُس صورت میں ہے جب کہ یقین ہو کہ یہ حدیث مجتہد کو نہ پہنچی تھی ورنہ اگر احتمال ہو کہ اس نے اطلاع پائی اور کسی دوسرے محل پر حمل کی،تو یہ اس کا مذہب نہ ہوگی۔ |
ثانیًا:یہ حکم کرنے والا احکام رجال و متون وطرق احتجاج ووجوہ استنباط او ر ان کے متعلقات اصولِ مذہب پر احاطہ تامہ رکھتا ہو۔یہاں اُسے چار منزلیں سخت دشوار گزار پیش آئیں گی۔جن میں ہر ایك دوسری سے سخت تر ہے۔
منزل اوّل:نقدر جال کہ اُن کے مراتب ثقہ وصدق و حفظ وضبط اور اُن کے بارے میں ائمہ شان کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع