30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
نقل ھذا الاقوال الخمسۃ الامام ابوعبداﷲ محمد بن الحاج العبدری المکی المالکی فی مدخلہ فی فصل النعوت المحدثۃ،وفیہ فی فصل فی الصلوۃ علی المیت فی المسجد ماورد"من ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم صلی علی سہیل بن بیضاء فی المسجد"فلم یصحبہ العمل والعمل عند مالك رحمہ اﷲ اقوی الخ۔[1] |
ان پانچوں اقوال کو امام ابوعبداﷲ محمد بن الحاج العبدری مکی مالکی نے اپنی کتاب المدخل کی فصل فی النعوت المحدثۃ میں نقل فرمایا،اور اسی کتاب میں مسجد کے اندر نماز جنازہ سے متعلق فصل میں مذکور ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے مسجد کے اندر سہیل بن بیضاء رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی نماز جنازہ کے بارے میں جو وارد ہے عملِ(علماء)اس کی موافقت نہیں کرتا۔اور امام مالك رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کے نزدیك عمل زیادہ مستحکم ہے۔(النخ(ت) |
خود میاں نذیر حسین صاحب دہلوی معیار الحق میں لکھتے ہیں:بعض ائمہ کا ترك کرنا بعض احادیث کو فرعِ تحقیق اُن کی ہے کیونکہ انہوں نے اُن احادیث کو احادیث قابل عمل نہیں سمجھا۔بدعوی نسخ یا بدعوی ضعف اور امثال اس کے۔[2]
اس امثال کے بڑھانے نے کھول دیا کہ بے دعوی نسخ یا ضعف بھی ائمہ بعض احادیث کو قابل عمل نہیں سمجھتے۔اور بے شك ایسا ہی ہے خود اسی معیار میں حدیث جلیل صحیح بخاری شریف حتی ساوی الظل التلول۔[3] (یہاں تك کہ سایہ ٹیلوں کے برابر ہوگیا۔ت)کو بعض مقلدین شافعیہ کی ٹھیٹ تقلید کرکے بحیلہ تاویلات باردہ کاسد ہ ساقطہ فاسدہ متروك العمل کردیا اور عذر گناہ کےلیے بولے کہ جمعابین الادلۃ۔[4] (دلائل میں مطابقت پیدا کرنے کے لیے۔ت)یہ تاویلیں حقہ کی گئیں۔اور اس کے سوا اور بہت احادیث صحاح کو محض اپنا مذہب بنانے کے لیے بدعاوی باطلہ عاطلہ ذاہلہ زائلہ بے دھڑك واہیات و مردود بتادیا جس کی تفصیل جلیل فقیر کے رسالہ فـــــــ حاجزالبحرین الواقی عن جمع الصلاتین۱۳۱۳ھ میں مذکور،یہ رسالہ صرف ایك
[1] المدخل لابن الحاج فصل فی ذکر الصلوۃ علی ا لمیت فی المسجد دارالکتاب العربی بیروت ۲/ ۲۸۹
[2] معیار الحق مکتبہ نذیریہ لاہور ص ۱۵۱
[3] صحیح البخاری کتاب الاذان باب الاذان لمسافر اذا کانوا جماعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۸۸
[4] معیار الحق مکتبہ نذیریہ لاہور ص ۳۵۴
ف:رسالہ حاجز البحرین الواقی فتاوٰی رضویہ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن کی جلد پنجم ۱۵۹ پر ملاحظہ ہو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع