30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
جواب سوال الاکذب وفحش وجہل بضلال فسیدنا العلامۃ عالم اھل السنۃ مدظلہ ودام فضلہ لما کشف عن خدرھا ووقف علٰی ھذرھا وھجرھا لم یجد علیکم لاجلہا بل فَتَبَسَّمَ ضَاحِکًا مِّنۡ قَوْلِہَا وَ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیۡۤ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیۡۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰی وٰلِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صٰلِحًا تَرْضٰىہُ وَ اَدْخِلْنِیۡ بِرَحْمَتِکَ فِیۡ عِبَادِکَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۹﴾" [1]علما منہ بان لا معصوم الا من عصم اﷲ فکیف یؤخذ بجہل النفس صدیق قدیم ماکان یرضاہ ولکنا نحن خدام العتبۃ العلیۃ فی عجب عاجب من ھذہ القضیۃ کتاب یکتب ۱۱ ذی القعدۃ الحرام ویصل لحضرۃ المکتوب الیہ تاسع الشہر من ذلك العام وانا لموقنون انکم من مثل ھذاالکذب الجلی معزولون وانما ھو من تعاجیب نفس امارۃ ولم تدرالسفیھۃ ان منھا علی |
کہ اس تحریرمیں جھوٹ اور زبان درازی اور بہکی ہوئی جہالت کے سوا کسی سوال کا جواب نہ تھا تو ہمارے سردار علامہ عالمِ اہلسنت مدظلہ و دام فضلہ نے جب کہ اس کا پردہ کھولا اور اس کی بے ہودہ سرائی و پریشان گوئی پر وقوف پایا اس کے سبب آپ پر کچھ غضب نہ فرمایا بلکہ اس کی بات سے ہنستے ہوئے مسکرائے اور دعا کی کہ اے میرے رب ! میرے دل میں ڈال کہ میں تیری ان نعمتوں کاشکر ادا کروں جو کہ تو نے مجھ پر اور میرے باپ دادا پر فرمائیں اور میں وہ بھلا کام کروں جو تجھے پسند آئے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیك بندوں میں داخل فرمالے۔وجہ یہ کہ حضرتِ والا کو معلوم ہے کہ معصوم تو وہی ہے جسے اﷲ عزوجل نے عصمت عطا فرمائی تو نفسِ امارہ کی جہالت کے باعث ایك پرانے دوست پر جو ایسی باتوں کو ناپسند رکھتا تھا کیا مواخذہ ہو مگر خادمانِ آستانہ والا اس معاملے میں سخت عجب میں ہیں خط لکھا جائے تو جائے ذی القعدۃ الحرام کی گیارہویں کو اور حضرت مکتوب الیہ کے پاس پہنچے اسی سال اسی ذی القعدہ کی نویں کو،ہم کو یقین ہے کہ آپ ایسے سفید جھوٹ سے برکنار ہیں یہ تو اسی نفس امارہ کی انوکھیاں ہیں اور وہ احمق یعنی نفس امارہ عــــــہ کی شرارت یہ نہ سمجھی کہ ا سکے جھوٹ |
عــــــہ:نفس زبان عربی میں مونث ہے یہاں مطابقت ترجمہ کے لیے شرارت نفس یا شریرہ مکتوب ہوئی۔۱۲ مترجم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع