30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی فضائل الاعمال،ویتوقف عن العمل بہ فی الاحکام الا اذا کثرت طرقہ او عضدہ اتصال عمل اوموافقۃ شاھد صحیح اوظاھر القرآن۔[1] |
میں اس پر عمل کریں گے اور احکام میں اس پر عمل سے باز رہیں گے۔مگر جب کہ اس کی سندیں کثیر ہوں یا عمل علماء کے ملنے یا کسی شاہد صحیح یا ظاہر قرآن کی موافقت سے قوت پائے۔ |
امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر باب صفۃ الصلوۃ میں فرماتے ہیں:
|
لیس معنی الضعیف الباطل فی نفس الامربل مالم یثبت بالشروط المعتبرۃ عنداھل الحدیث مع تجویز کونہ صحیحا فی نفس الامرفیجوز ان تقترن قرینۃ تحقق ذلك وان الراوی الضعیف اجاد فی ھذا المتن المعین فیحکم بہ۔[2] |
ضعیف کے یہ معنٰی نہیں کہ واقع میں باطل ہے بلکہ یہ کہ اُن شرطوں پر ثابت نہ ہوئی جو محدثین کے نزدیك معتبر ہیں۔ واقع میں جائز ہے کہ صحیح ہو تو ہوسکتا ہے کہ کوئی قرینہ ایسا ملے جو اس جواز کی تحقیق کردے اور بتادے کہ ضعیف راوی نے یہ خاص حدیث ٹھیك روایت کی ہے تو اس کی صحت پر حکم کردیا جائے گا۔ |
بارہا حدیث صحیح ہوتی ہے اور امام مجتہد اُس پر عمل نہیں فرماتا خواہ یوں کہ اس کے نزدیك یہ حدیث نامتواتر نسخ کتاب اﷲ چاہتی ہے یا حدیث احاد زیادت علی الکتاب کررہی ہے۔یا حدیث موضوع تکرروقوع وعموم بلوی یا کثرت مشاہدین و توفردواعی میں احاد آئی ہے یا اس پر عمل میں تکرار نسخ لازم آتی ہے۔یا دوسری حدیث صحیح اس کی معارض اور وجوہ کثیرہ ترجیح میں کسی وجہ سے اس پر ترجیح رکھتی ہے۔یا وہ بحکم جمع وتطبیق و توفیق بین الادلہ ظاہر سے مصروف و موؤل ٹھیری ہے،یا بحالتِ تساوی وعدم امکان جمع مقبول وجہل تاریخ بعد تساقط ادلہ نازلہ یا موافقت اصل کی طرف رجوع ہوئی ہے۔یا عمل علماء اس کے خلاف پر ماضی ہے۔ یا مثل مخابرہ تعامل امت نے راہ خلافت دی ہے۔یا حدیث مفسر کی صحابی راوی نے مخالفت کی ہے۔یا علت حکم مثل سہم مؤلفۃ القلوب وغیرہ اب منتفی ہے۔یا مثل حدیث لا تمنعوا اماء اﷲ مساجد اﷲ[3](اﷲ کی بندیوں کو مسجدوں سے مت روکو۔ ت)مبنائے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع