30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ذاذوقریحۃ سلیمۃ قدابان ابن اخت خالتک الکریمۃ ان البون بین الواجب والفرض کمثلہ بین السما والارض بل قد اظھر ان الفرض علمی وعملی وان الکلام ھٰھنا فی العلمی فمالی اراہ یعف وینکر ویخیّرویذھل عمایخبر وان اولتہ بالافتراض القطعی فلم یقل بہ احد فی الخصوص النوعی نعم اذا اتضح لک الحق فی مبحث قدسبق فاعلن بافتراض التقلید المطلق فمثلک بالاعتراف للحق احق ثم ان اردت ان تصدر بالحق عماوردت فاجبنی اولاً عما سألتک وطریت الجواب ان کیف عملک وعلمک بمحلک ومجالک فی ھذاالباب الٰی غیر ذلک مما فصلتہ فی اول کتاب ثم اذا انت من اخوانہ العلم وقد قلت اخدمہ مذثلٰثین سنۃ فلایظن بک ان تلا تعمل اوتعمل وانت عن حکم سبیلہ فی غفلۃ وسنۃ وقد علمت ان ابناء الزمان فی ذاالمنھج لیسوا علٰی شان بل ھم بین مکفّرومحّرم ومجوّز وملزم و مخیّر ومتخیرّ ومطلق و |
خود آپ کی خالہ کریمہ کا بھانجا ظاہر چکا کہ واجب وفرض میں زمین و آسمان کا فرق ہے بلکہ یہ روشن کرچکا کہ فرض دو قسم ہے،علمی و عملی،اور یہاں گفتگو علمی میں ہے،تو اب کیا وجہ ہے کہ میں اسے پاتا ہوں کہ پہچان کر شنا سا ہوتا ہے اور خود خبر دے کر بھولا جاتا ہے اور اگر آپ اسے فرضیتِ قطعیہ سے تاویل کریں تو خاص نوع میں اس کا کوئی قائل نہیں،ہاں جب کہ گزشتہ بحث میں آپ پر حق واضح ہوگیا ہے تو تقلید مطلق کی فرضیت کا اعلان دیجئے کہ آپ جیسے کو حق کا اقرار زیادہ سزاوار ہے پھر اگر آپ چاہیں کہ جہاں آئے وہاں سے حق کے ساتھ پلٹئے تو اولاً ان امور کا جواب دیجئے جو میں نے سوال کیے اور آپ نے جواب نہ دئیے اور آپ کا عمل کیونکر رہا اور آپ اس میں اپنا مرتبہ وا قتدار کہاں تک جانتے ہیں اور ا سکے سوا اور سوالات جو نامہ اول میں میں نے بہ تفصیل لکھے پھر جب کہ آپ برادرانِ علم سے ہیں اور خود اپنے منہ سے تیس سال سے اس کے خادم رہے ہیں تو یہ تو آپ پر گمان نہ ہوگا کہ آپ عمل ہی نہیں کرتے یا عمل کرتے ہیں تو اس طرح کہ اس کی راہ کے حکم سے غفلت و خواب میں ہیں،اور آپ کو خوب معلوم ہے کہ ابنائے زمان اس مسلک میں ایک حال پر نہیں بلکہ کوئی کفر کہتا ہے کوئی حرام،کوئی جائز،کوئی واجب،کوئی تخییر کی راہ چلتا ہے کوئی تخیر کی۔کوئی مطلق |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع