30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تصرف عــــــہ فی العالم بمعنی ان الکاملین من البشر قد فوض الیھم انتظام جزء من العالم ومنھم من فوض الیہ العالم کلہ فمنھم من ھو مثل الوزیر و منھم من ھو مثل العمال ومنھم من ھو مثل الاعوان ولا اقول ان التصرف لیس لہ الاھٰذا المعنٰی بل انا لا استبشع الا ھذاالمعنی فان کان علی التصرف بھذا المعنی دلیل من الشرع فافدنی بہ وان کان للتصرف معنی غیر بشع فعلمنیہ۔والسلام محمد طیب۔ویا سیدی انّی لما تأملت جوابک عن مسئلۃ وجوب التقلید وجدتک تقول ان کلامک فی التقلید المطلق لا فی المقید افترید ان التقلید الخاص لشخص معین غیر واجب فان کان ھذامراد ک فعرفنا بہ والا فبین لنا مطلبک ولیس مراد نا من مخاطبتک الا لاطلاع علٰی ما عندک ونسئلک المساحۃ فی التکلیف ۔ |
کے لیے عالم میں تصرف حاصل ہے اس معنی پر کہ کامل آدمیوں کو ایک حصہ عالم کا انتظام سپرد ہوا ہے اور بعض کو تمام جہان سپرد ہے تو ان میں کوئی وزیر کی مانند ہے اور ان میں کوئی کارکنوں کی طرح اور ان میں کوئی سپاہی کی مثل ہے اور میں نہیں کہتا کہ تصرف کے لیے بس یہی معنی ہیں بلکہ میں ناخوش نہیں سمجھتا مگر اسی معنی تصرف پر شرع سے کوئی دلیل ہو تو مجھے افادہ فرمایئے اور اگر تصرف کے کوئی اور معنی ہوں کہ ناخوش نہ ہوں تو مجھے تعلیم کیجئے۔والسلام محمد طیب۔ اور اے میرے آقا! جب میں نے مسئلہ وجوبِ تقلید میں آپ کے جواب کو غور کیا تو آپ کا یہ بیان پایا کہ آپ کا کلام مطلق تقلید میں ہے نہ مقید میں،تو کیا آپ کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص معین کی خاص تقلید واجب نہیں۔پس اگر آپ کی یہ مراد ہے تو ہمیں اس کی معرفت دیجئے ورنہ ہم سے اپنا مطلب بیان کیجئے اور آپ کے مخاطبے سے ہماری اسی قدر مراد ہے کہ جو کچھ آپ کے نزدیک حکم ہے وہ ہمیں معلوم ہوجائے اور ہم اس تکلیف دہی میں آپ سے معافی مانگتے ہیں فقط۔ |
مترجم غفراﷲ لہ گزارش کرتا ہے کہ عرب صاحب کا یہ دوسرا خط ایک مدت کے بعد ماہِ رجب میں آیا،حضرت عالم اہلسنت دام ظلہم اندر تشریف فرماتھے۔دروازے پر ایک سید صاحب تشریف رکھتے تھے،عرب صاحب کافر ستادہ کوئی لڑکا انہیں خط دے کر روانہ ہوا۔جب خط ملاحظہ عالیہ
عــــــہ:ھکذا بخطہ ۱۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع