30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فسلہا مالھم من السبیل الٰی ان یعلموا احکام الجلیل ان یروا بانفسہم وھم لایبصرون و یستنبطوا وھم لایقدرون اویرجعوا الی العلماء المرشدین فیعتمدون علیھم فی امور الدین ویعلموا بقولھم منقادین فان بالا ول اجابت فقد بھتت وخابت " لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاؕ "۔[1] وان ابت وابت الی الاٰخراصابت و وقد وجدت ضالۃ ضلت ربعہا،ثم من العجب سؤلک عمایسآل عنہ مثلک،ان علم المکلف بفرضیۃ التقلید کیف یحصل لہ أ باجتہاد اوبتقلید فلقد قصرت ولا قصر وزعمت الحصرحیث لا حصر اماعلمت ان الضروری فی علمہ عنھما جمیعا لغنی الیس ان کل مسلم یعلم ضرورۃ من الدین علما لا یخالطہ ظن و لاتخمین ان ﷲ علیہ فرائض وحرمات وحدود اوتکلیفات ویعلم منہم من لایعلم علما وجدانیا ان لایعلم وانہ لایقدر ان یعلم الا ان یعلم |
انکار کرے تو اب اس سے پوچھیے انکار کرے تو اب اس سے پوچھیے کہ ان کے لیے احکامِ الہی جاننے کی کیا سبیل ہے آیا یہ کہ خود دیکھیں حالانکہ وہ نگاہ نہیں رکھتے،اجتہاد کریں حالانکہ قدرت نہیں رکھتے یا یہ کہ ہدایت و ارشاد والے علماء کی طرف رجوع لائیں،امورِ دین میں ان پر اعتماد کریں جو وہ فرمائیں مطیع ہو کر اس پر کاربند رہیں،اگر جواب میں پہلی بات کہی تو یقیناً بہتان اٹھاتی ہے اور نامراد رہی،اور اگر اس سے انکار کرکے دوسری طرف پلٹی تو راہِ صواب پر آئی اور جس گم شدہ کا مکان نہ جانتی تھی اس کی ملاقات پائی،پھر عجب بات ہے آپ کا ایسے امر سے سوال جسے آپ جیسا دریافت نہ کرتا کہ مکلف کو تقلید فرض ہونے کا علم اجتہاد سے ہے یا تقلید سے، آپ نے قصر کیا اور قصر نہ تھا اور حصر سمجھے جہاں حصر نہ تھا۔کیا آپ کو خبر نہیں کہ بدیہی بات اپنے جاننے میں ان دونوں سے یکسر بے نیاز ہے۔کیا ہر مسلمان بالبداہت ایسے یقین سے جس میں کسی گمان و تخمین کی آمیزش نہیں اپنے دین کا یہ حکم نہیں جانتا کہ اللہ عزوجل کے لیے اس پر کچھ فرض ہیں کچھ حرام کچھ حدیں ہیں کچھ احکام اور ان میں جو جاہل ہے وہ اپنے وجدان سے جانتا ہے کہ جاہل ہے اور یہ کہ جب تک اسے بتایا نہ جائے خود جان لینے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع