30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وقولہ الحق" وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُوۡنَ لِیَنۡفِرُوۡا کَآفَّۃً ؕ فَلَوْلَا نَفَرَ مِنۡ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْہُمْ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوۡا فِی الدِّیۡنِ وَلِیُنۡذِرُوۡا قَوْمَہُمْ اِذَا رَجَعُوۡۤا اِلَیۡہِمْ لَعَلَّہُمْ یَحْذَرُوۡنَ ﴿۱۲۲﴾٪ "[1]، فقد فرض التفقہ فی الدین واعفی عنہ عامۃ المومنین و لم یترک احدا منھم سدی فانما ارشد للتقلید من اھتدی الم تعلم ان اﷲ علی خلقہ فرائض لا تترک و محارم لا تنتھب وحدودا من تعداھا فقد ظلم و ھلک ولکلہا او جلہا شرائط وتفاصیل لایہتدی الیہا الا قلیل،" وَمَا یَعْقِلُہَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوۡنَ ﴿۴۳﴾ "[2] " فَسْـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکْرِ اِنۡ کُنۡتُمْ لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿ۙ۴۳﴾ "۔[3] |
اور اس کا قول سچا ہے وماکان المؤمنون لینفرواکافۃ الآیۃ یعنی مسلمان سب کے سب تو باہر جانے سے رہے تو کیوں نہ ہوا کہ ہر گروہ سے ایک ٹکڑا نکلتا کہ دین میں فقہ سیکھے اور واپس آکر اپنی قوم کو ڈر سنائے اس امید پر کہ وہ خلافِ حکم کرنے سے بچیں،تو اللہ تعالٰی نے فقہ سیکھنا فرض فرمایا اور عام مومنین کو اس سے معاف فرمایا اور مہمل اور آزاد کسی کو نہیں رکھا ہے تو ضرور اہلِ ہدایت کو تقلید ہی کا ارشاد ہوا۔ عــــــہ کیا آپ نہیں جانتے کہ اللہ عزوجل کے لیے اپنی مخلوق پر کچھ فرض ہیں کہ چھوڑنے کے نہیں کچھ حرام ہیں کہ حرمت توڑنے کے نہیں،کچھ حدیں ہیں کہ جوان سے آگے بڑھے ظالم ہو اور ہلاکت میں پڑے،اور ان سب یا اکثر کے لیے شرطیں اور تفصیلیں ہیں جنہیں گنتی ہی کے لوگ جانتے ہیں اور ان کی سمجھ میں نہیں مگر عالموں کو،تو اہلِ ذکر سے مسئلہ پوچھو اگر تمہیں علم نہ ہو۔بلکہ آپ اپنی |
عــــــہ:یعنی جب احکامِ الہٰیہ ہر عام و عامی پر ہیں آزاد کوئی نہ چھوڑ ا گیا اور فقہ سیکھنے کو صاف فرمادیا کہ سب سے نہیں ہوسکتا،ہر گروہ سے بعض اشخاص سیکھیں اور اپنی قوم کو احکام بتائیں کہ وہ مخالفتِ حکم سے بچیں تو صاف صاف عام لوگوں کو ان فقیہوں کی بات پر چلنے کا حکم ہوا اور اسی کا نام تقلید ہے جس کی فرضیت قرآن عظیم کی نص قطعی سے ثابت ہوئی ۱۲ مترجم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع