30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کوئی تحریر چھپنی شروع ہوئی،وہ دو چار ہی دن جاتے ہیں کہ وہ نامطبوع مطبوع ہوئی اس پر یہاں بھی احباب نے مناسب جانا کہ خطوط بعینہا شائع ہوں کہ ناظرین اصل واقعے پر مطلع ہوں،اگر مجتہد صاحب نے کچھ غیرت اجتہاد سے کام لیا،تحریر میں تمام سوالات سے جواب دیا فبہا،یہ رسالہ بعونہ تعالٰی رسالہ جو اب کا مقدمہ ممہد ہوگا۔اور اگر جوابوں سے راہ کترائی،میر بحری بچائی،خارجی باتوں میں اڑان گھائی بتائی تو یہی رسالہ ان کی تحریر کا پیشی رَد ہوگا کہ حضرت پہلے سوالات کا جواب دیجئے اس کے بعد کچھ کہنے کا نام لیجئے۔لہذا تو کلاً علی اﷲ یہ رسالہ جمع کیا اور عمومِ فائدہ کو خطوط کا سلیس ترجمہ کردیا:الصلوۃ والسلام علی نبی الہدٰ ی واٰلہ وصحبہ دائماً ابدا۔
خط اول عرب صاحب بنامِ نامی حضرت عالم اہلسنت مدظلہ السامی
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
|
الٰی حضرۃ الفاضل العلامۃ الشیخ احمد رضا مدظلہ العالی۔ السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،بعد السؤال عن عزیز خاطر کم نعرفکم باناقداطلعنافی بعض تصانیفک انک تقول ان التقلید فرض قطعی فتعجبت وحق لی ان اتعجب لانی قد قضیت نحوا من ثٰلثین سنۃ فی خدمۃ طلبۃ العلم فلم اھتد الی استحباب التقلید فضلا عن وجوبہ فکیف بفرضیتہ لا مطلقابل فرضیتہ قطعیۃ فلہٰذا ارغب الیک ان تعلمنی ادلۃ ذلک وعین لی ان ای قسم من اقسام التقلید فرضا قطعیا ثم اخبرنی ان علم المکلف بفرضیۃ التقلید کیف یحصل لہ أبتقلید او |
بسم اﷲ الرحمن الرحیم،نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم، ببارگاہِ فاضل علامہ حضرت احمد رضا مدظلہ العالی۔ السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،پرسش مزاجِ گرامی کے بعد ہم جناب کو معرفت کراتے ہیں کہ ہم نے آپ کی بعض تصنیفوں میں آپ کا یہ قول دیکھا کہ تقلید فرض قطعی ہے اس سے مجھے تعجب ہوا اور مجھے سزاوار تھا کہ تعجب کروں اس لیے کہ میں نے تیس برس کے قریب طالب علموں کی خدمت میں گزاری، مجھے تقلید کو مستحب جاننے کی ہدایت نہ ہوئی چہ جائے وجوب،پھر کہاں فرضیت،وہ بھی مطلق نہیں بلکہ فرضیت قطعیہ،اس وجہ سے میں آپ کی طرف آرزو لاتا ہوں کہ مجھے اس کے دلائل تعلیم فرمائیے اور معین کیجئے کہ تقلید کی کون سی قسم فرض قطعی ہے پھر مجھے بتائیے کہ مجتہدوں میں سے کسی کو کیونکر اختیار کرے ؟ آیا تقلید سے یا اجتہاد سے؟ بات یہ ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع