30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خبر بھی نہ پہنچی،مضمون سننا تو بڑی بات ہے میں کیسے کہہ دوں کہ مقبول ہیں یا مردود،اور واقعی قبول کرنے میں سارا بار اپنے سر آتا تھا اورنہ قبول کرنے میں معتقدین کا دل دکھتا بلکہ غالبًا اپنا ہی ساختہ پر داختہ باطل ہوتا تھا ناچار سوا اس انکار کے علاج کیا تھا ورنہ کیونکر قرین قیاس ہو کہ آپ کا مسئلہ آپ کا معاملہ آپ کا فرقہ آپ کا سلسلہ شہروں شہروں وہ شور و غلغلہ اور آپ کانوں کان خبر نہیں،طرفہ یہ کہ آپ خود اسی کارڈ میں فرمارہے ہیں،نفس مسئلہ مجھ سے ہزاروں مرتبہ مجھ سے کسی نے پوچھا اور میں نے بتلادیا اب نا معلوم پچاس۵۰ سال کے بعد یہ غل شور کیوں ہوا۔غل شور کی خبر ہے مگر یہ نہیں معلوم کہ وہ غل کیا اور کس پیرایہ میں ہے۔لطف یہ کہ معتقدین معرض بیان میں سکوت سے عرفًا اقرار دے چکے کہ ان کے مضامین آپ ہی کی تعلیم ہیں ضمیمہ شحنہ ہند کے اس بیان پر کہ یہ لچر اعتراضات مجوزین اکل زاغ ہذا کے ہیں جو غالبًا ان کے کسی تعلیم دہندہ نے ہدایت فرمائی ہے جن کے ارشاد کے موافق بحکم۔ ع
بمے سجادہ رنگین کن گرت پیر مغاں گوید[1]
(شراب کے ساتھ مصلّٰی رنگین کرلے اگر پیر مغاں کہے ت)
اس موذی خبیث زاغ کا کھانا اس فریق نے اختیار کیا ہے آپ کو معلوم ہو کہ یہ پیر مغاں باتفاق فریقین آپ ہیں خود آپ کے معقتدین پرچہ اولٰی میں فرماتے ہیں:شك نہیں کہ حضرت مولانا گنگوہی بشر ہیں لیکن یہ کون سعادت مندی ہے کہ بلاسوچے سمجھے ایسے پیر مغاں فقیہ مسلم پر اعتراض کر بیٹھے،واہ رے زمانہ غافل و مدہوش مغبچوں میں یہ شور و خروش اور پیر مغان در خوابِ خرگوش،خیر یہ تو آپ جانیں یا آپ کے مرید،کلام اس میں ہے کہ ضمیمہ شحنہ کا یہ کلام تردید والوں نے دیکھا اور آپ کا تبریہ نہ کیا اب ظاہر تو یہ ہے کہ جو ظاہر تھا وہ ظاہر ہولیا۔ ع
نہاں کے ماند آں رازے الخ
(وہ راز پوشیدہ کیسے رہ سکتا ہے۔ت)
کتبِ متداولہ درسیہ سے کّوا حلال ہونے کا اِدعا اُسی وقت تك سز اہے کہ جواب سوالات سے دامن کھینچا ہے،نمبر وار ہر سوال کا صاف صاف جواب بے پیچ و تاب دیتے ہی تو بعونہ تعالٰی کھلا جاتا ہے کہ یا غراب البین یا لیت بینی و بینك بعد المشرقین(اے فراق کے کوے کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق مغرب جتنا فاصلہ ہوتا۔ت)آپ فرماتے ہیں:صرف یہ کارڈ آپ کے رفع انتظار کے لیے بھیجا ہے ورنہ اس کی بھی حاجت نہ تھی۔میں کہتا ہوں حاجت تو کوّا کھانے کی بھی نہ تھی اب کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع