30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ضالۃ المؤمن۔[1] (حکمت کی بات مومن کی گمشدہ میراث ہے۔ت)نہیں،کیا آپ یا آپ کے اساتذہ کی اٹکل میں غلطی ممکن نہیں، زآپ کے معتقدین تو اسی اشتہار غراب پرچہ اولیٰ میں آپ کی خطائیں نگاہِ عوام میں ہلکی ٹھہرانے کے لیے حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والثنا تك بڑھ گئے کہ حضرت مولانا گنگوہی بشر ہیں اور بشریت سے اولیاء کیا معنی انبیاء علیہم السلام بھی خالی نہیں حالانکہ ایسی جگہ اکابر کو ضرب المثل بنانا سوئے ادب ہے اور قائل مستحق تعزیز شدید،شفا شریف میں ہے:
|
الوجہ الخامس ان لا یقصد نقصا ولایذکر عیبا ولا سبالکن ینزع بذکر بعض اوصافہ علیہ الصلوۃ و السلام اویستشہد ببعض احوالہ علیہ الصلوۃ و السلام الجائزۃ علیہ فی الدنیا علٰی طریق ضرب المثل والحجۃ لنفسہ اولغیرہ اوعلٰی التشبہ بہ او عند ھضمیۃ نالتہ اوغضاضۃ لحقتہ کقول القائل ان قیل فی السوء فقد قیل فی النبی او کُذِّبْتُ فقد کُذِّبَ الانبیاء،اوانا اسلم من السنۃ الناس ولم تسلم منہم انبیاء اﷲ،وانما کثرنا بشاھدھا مع استثقا لنا حکایتہا لتساھل کثیر من الناس فی ولوج ھذا الباب الضنك وقلۃ علمھم بعظیم مافیہ من الوزر یحسبونہ ھینا |
بے ادبی کی پانچویں صورت یہ ہے کہ قائل نہ تو توہین کا ارادہ کرے نہ ہی کوئی برائی یا دشنام زبان پر لائے مگر ذکر بعض اوصاف نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف جھکے یا بعض احوال کو کہ حضور پر دنیا میں روا تھے دستاویز بنائے ضرب المثل کے طور پر یا اپنے یا دوسرے کے لیے حجت لانے یا حضور سے تشبیہ دینے کو یا اپنے یا دوسرے پر سے کسی نقص یا قصور کا الزام اٹھاتے وقت جیسے قائل کا کہنا کہ مجھے برا کہا گیا تو نبی کو بھی تو لوگ برا کہتے تھے یا مجھے جھٹلایا تو لوگوں نے انبیاء کی بھی تو تکذیب کی ہے یا میں لوگوں کی زبان سے کیا بچوں کہ انبیاء تك ان سے سلامت نہ رہے۔(امام فرماتے ہیں ہم نے یہ الفاظ باآنکہ ان کی نقل ہم پر گراں تھی اس لیے بکثرت ذکر کیے کہ بہت لوگ اس تنگ دروازے میں گھس پڑنے کو سہل سمجھے ہوئے ہیں اور اس میں جو سخت وبال ہے اس سے کم واقف ہیں اسے آسان |
[1] جامع الترمذی ابواب العلم باب ماجاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ امین کمپنی دہلی ۲/ ۹۳،سنن ابن ماجہ ابواب الزہد باب الحکمۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۳۱۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع