30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سمجھ لیے کہ واقعی سوالات لاجواب اور خیالات زاغیہ سب نعیق غراب بلکہ نقش بر آب ہیں مفاوضہ عالیہ بصیغہ رجسٹری رسید طلب مرسل ہوا تھا ضابطے کی رسید تو دیتے ہی براہ عنایت اس کے ساتھ ایك کارڈ بھی بھیجا کہ آپ کا طویل مسئلہ پہنچا میں نے نہ سنا نہ سننے کا قصد ہے،انا ﷲ وانا الیہ راجعون،(بے شك ہم اﷲ تعالٰی کے مال ہیں اور ہم کو اس کی طرف پھرنا ہے۔ت) ہزار افسوس نام علم و حالت علماء پر بے سمجھے بوجھے ایك نیا مسئلہ نکالنا مسلمانوں میں اختلاف ڈالنا اور جب علماء مطالبہ دلیل و افادہ حق فرمائیں یوں چپ سادھ لینا ارشادِ قرآن " وَ اِذْ اَخَذَ اللہُ مِیۡثٰقَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْکِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّہٗ لِلنَّاسِ "[1]۔ (اور یاد کرو جب اﷲ تعالٰی نے عہد لیا ان سے جنہیں کتاب عطا ہوئی کہ تم ضرور اسے لوگوں سے بیان کردینا۔ت) کو بھلا دینا ایسے ہی شیوخ الطائفہ کو زیبا ہے جنہیں خود ان کا معتقد فرقہ اپنا پیر مغاں لکھتا ہے۔افسوس معتقدین کی بھی نہ چلی کہ ہمارے علماء سے طے کرلو۔طے کس سے کیجئے وہاں تو آواز ندارد۔سوالات میں ایك سوال یہ بھی تھا کہ فلاں فلاں پرچے جو حلتِ زاغ میں چھپے آپ کی رائے و رضا سے ہیں یا نہیں ان کے مضامین آپ کے نزدیك مقبول ہیں یا مردود۔جناب گنگوہی صاحب نے خیال فرمایا کہ مقبول کہتا ہوں تو سب بار مجھی پر آتا ہے مردود بتاؤں تو اپنا ہی ساختہ پر داختہ باطل ہوا جاتا ہے لہذا صاف کانوں پر ہاتھ دھر گئے کہ میں نے اس وقت تك اس مسئلہ میں کوئی تحریر موافق نہ مخالف اصلًا نہ سُنی،نہ سننے کا قصد ہے۔مجھے تو آج تك یہ بھی معلوم نہ تھا کہ اس بارے میں کسی طرف سے کوئی تحریر چھپی ہے چلیے فراغت شد۔ ؎
نہ ہم سمجھے نہ تم آئے کہیں سے
پسینہ پونچھئے اپنی جبیں سے
حضرت جناب گنگوہی صاحب اور اُن سے قربت رکھنے والے خوب جانتے ہوں گے کہ یہ کیسا صریح سچ ارشاد ہوا ہے مگر وہاں اس کی کیا پروا ہے جو اپنے معبود کو جھوٹا بالفعل کہنا سہل جانیں،بندوں پر جھوٹ بولنا آپ ہی واجب بالدوام مانیں۔عالم اہل سنت دام ظلہ العالی نے فورًا اس کا رڈ کا رَد رجسٹر رسید طلب کے ساتھ روانہ فرمایا فراست المومن سے گمان تھا کہ گنگوہی صاحب پہلا مفاوضہ انجانی میں لے چکے ہیں اور قوت سوالات دیکھ کر تحقیقِ مسئلہ شرعیہ سے بچتے ہیں عجب نہیں کہ اس بار رجسٹری واپس فرمائیں لہذا واضح قلم سے لفافے پر یہ الفاظ تحریر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع