30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۴۶)ص ۸۸:جو مرجائے اور اس پر فرض روزے رہ جائیں اس کے ولی کو چاہیے کہ اس کی طرف سے روزے رکھے۔مذہب حنفی میں کوئی دوسرے کی طرف سے روزے نہیں رکھ سکتا۔ہدایہ میں ہے:
|
لایصوم عنہ الولی ولا یصلی لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایصوم احد عن احد ولا یصلی احد عن احد ۱ [1]۔ |
اور میت کی طرف سے اس کا ولی نہ روزہ رکھے نہ نماز پڑھے کیونکہ رسول اﷲ ؐ کا فرمان ہے کوئی کسی کی طرف سے روزہ نہ رکھے اور نہ ہی کوئی کسی کی طرف سے نماز پڑھے(ت) |
(۴۷)ص ۹۳:ہر مسلمان امیر وغریب پر صدقہئ فطر واجب ہے مذہب حنفی میں صرف غنی پر واجب ہے فقیر پر ہر گز نہیں،
ہدایہ میں ہے:
|
صدقۃ الفطر واجبۃ علی الحرالمسلم اذا کان مالکا لمقدار النصاف فاضلا عن مسکنہ وثیابہ واثاثہ وفرسہ وسلاحہ وعبیدہ لقولہ علیہ الصلوۃ والسلام لاصدقۃ الاعن ظہر غنی [2]۔ |
صدقہ فطر آزاد مسلمان پر واجب ہے جو مقدار نصاف کا مالك ہو درانحالیکہ وہ نصاف اس کے رہائشی مکان،لباس،سامان خانہ داری،سواری کے گھوڑے،ہتھیاروں اور خدمت کے غلاموں سے زائدہو،رسول اﷲ کے اس فرمان کی وجہ سے کہ نہیں ہے صدقہ مگر مالداری کو باقی رکھتے ہوئے۔(ت) |
(۴۸)ص ۹۳:صدقہ فطر عورت کا خاوند کو لازم ہے،یہ بھی مذہب حنفی کے خلاف ہے، ہدایہ میں ہے:
|
لایؤدی عن زوجتہ [3]۔ |
(صدقہ فطر)خاوند اپنی بیوی کی طرف سے ادا نہ کرے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع