30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۴۲)ص ۶۶:عید کے پیچھے تین دن تك قربانی درست ہے،مذہب حنفی میں صرف بارھویں تك قربانی جائز ہے۔درمختار میں ہے:
|
تجب التضحیۃ فجریوم النحرالٰی اٰخر ایامہ وھی ثلثۃ افضلہا اولہا[1]۔ |
قربانی کرنا واجب ہے یومِ نحر کی فجر سے ایامِ قربانی کے آخری دن تک،اور وہ تین دن ہیں جن میں سے پہلا افضل ہے۔(ت) |
(۴۳)ص ۷۶:خاوند اگر اپنی عورت کو غسل دے جائز ہے،مذہب حنفی میں محض ناجائز ہے۔درمختار میں ہے:
|
ویمنع زوجہا من غسلہا و مسھا لامن النظر الیہاعلی الاصح [2]۔ |
اصح یہ ہے کہ خاوند کا بیوی کو غسل دینا اور اُسے چھونا ممنوع ہے مگر اسے دیکھنا ممنوع نہیں ہے۔(ت) |
(۴۴)ص ۸۰:شہید پر نماز پڑھنی ضروری نہیں،مذہب حنفی میں ضروری ہے۔درمختار میں باب الشہید میں ہے:
|
یصلی علیہ بلا غسل [3]۔ |
شہید پر بلا غسل نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی۔(ت) |
(۴۵)ص ۸۰:جو جنازہ میں نہ مل سکے قبر پر پڑھ لے۔مذہب حنفی میں جو نماز جنازہ میں نہ مل سکے اب وہ کہیں نہیں پڑھ سکتا،کہ نماز جنازہ کی تکرار جائز نہیں مگر اس حالت میں کہ پہلی نماز اس نے پڑھ لی ہو۔جسے ولایت نہ تھی۔درمختار میں ہے:
|
ان صلی غیر الولی ولم یتابعہ الولی اعاد الولی ولو علٰی قبرہ ان شاء ولیس لمن صلی علیہا ان یعید مع الولی لان تکرار ھا غیر مشروع [4]۔ |
اگر غیر ولی نے نماز جنازہ پڑھ لی اور ولی نے اس کی متابعت نہ کی تو ولی اگر چاہے تو نماز جنازہ کا اعادہ کرسکتا ہے،اگرچہ قبر پر پڑھ لے اور جو پہلے جنازہ میں شریك ہوچکا ہے وہ دوبارہ ولی کے ساتھ شریك نہیں ہوسکتا کیونکہ نماز جنازہ میں تکرار مشروع نہیں ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع