30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۳۵)ص۶۳:جو سائل نے نقل کیا جو خطبہ میں آکر شامل ہو دورکعت سنت پڑھ کر بیٹھے،مذہب حنفی میں خطبہ ہوتے وقت ان رکعتوں کا پڑھنا حرام ہے،درمختار میں ہے:
|
اذا خرج الامام فلا صلوۃ ولاکلام الٰی تمامھا [1]۔ |
جب امام خطبہ کے لیے نکلے تو ا سکے اتمام تك کوئی نماز اور کوئی کلام جائز نہیں۔(ت) |
(۳۶)ص ۶۳:وہ جو سائل نے نقل کیا جو شخص کے دوسری رکعت کے قیام سے پیچھے ملے اس کا جمعہ نہیں ہوتا وہ ظہر پڑھے۔یہ محض غلط وافتراء ہے مذہب حنفی میں تو اگر التحیات یا سجدہ سہو بھی امام کے ساتھ پالیا تو جمعہ ہی پڑھے گا اور امام محمد کے نزدیك بھی دوسری رکعت کا رکوع پانے والا جمعہ پڑھتا ہے حالانکہ وہ بھی دوسری رکعت کے قیام کے بعد ملا،ہدایہ میں ہے:
|
من ادرك الامام یوم الجمعۃ صلی معہ ما ادرکہ و بنی علیھا الجمعۃ وان کان ادرکہ فی التشہدا وفی سجود السہو بنی علیہا الجمعۃ عندھما وقال محمد ان ادرك معہ اکثرالرکعۃ الثانیۃ بنی علیھا الجمعۃ [2]۔ |
جس نے جمعہ کے دن امام کو پالیا تو امام کے ساتھ جتنی نماز پائی وہ اس کے ساتھ پڑھے،اور اس پر جمعہ کی بنا کرے،اگر اس نے امام کو تشہد یا سجدہ سہو میں پایا تو شیخین کے نزدیك اس پر جمعہ کی بنا کرے اور امام محمد کے نزدیك اگر امام کے ساتھ دوسری رکعت اکثر پالی تو اس پر جمعہ کی بنا کرے۔(ت) |
(۳۷)ص ۶۴۰:تین آدمی بھی جمع ہوجائیں تو جمعہ پڑھ لیں۔یہ بھی ہمارے امام کے مذہب کے خلاف ہے کم سے کم چار آدمی درکار ہیں۔درمختار میں ہے:
|
والسادس الجماعۃ واقلہا ثلٰثۃ رجال سوی الامام [3]۔ |
چھٹی شرط جماعت ہے اور وہ یہ کہ امام کے علاوہ کم از کم تین مرد ہوں۔(ت) |
(۳۸)ص ۶۴:عید کی نماز ہر مسلمان پر واجب ہے مرد ہو یا عورت یہ بھی غلط ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع