30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرنا دوسری غلطی،درمختا رمیں ہے:
|
یاتی المسافر بالسنن ان کان فی حال امن وقرار والا بان کان فی حال خوف وفرار لایاتی بھاھوالمختار [1]۔ |
حالت امن و قرار میں مسافر سنتیں ادا کرے ورنہ یعنی حالتِ خوف و فرار میں نہ ادا کرے،یہی مختار ہے۔(ت) |
(۳۲ و ۳۳)۵۸:جب کسی دشمن یا درندہ وغیرہ کا خوف ہو تو چار رکعت نماز فرض سے دو رکعت پڑھنا جائز ہے۔یہ محض غلط ہے مسافر پر چار رکعت فرض کی پڑھنی ویسی ہی واجب ہے اگر چہ کچھ خوف نہ ہو،اور غیر مسافر کو چار رکعت فرض کی،دو پڑھنی اصلًا جائز نہیں اگرچہ کتنا ہی خوف ہو۔درمختار میں ہے:
|
من خرج من عمارۃ موضع اقامتہ قاصد امسیرۃ ثلٰثۃ ایام ولیالیہا صلی الفرض الرباعی رکعتین وجوبا[2]۔ |
جو شخص تین دن رات کی مسافت کے ارادے سے اپنی جائے اقامت کی آبادی سے نکلا اس پر واجب ہے کہ چار رکعتی فرضوں میں دو دو رکعتیں پڑھے ت)۔ |
اسی میں ہے:
|
صلوۃ الخوف جائزۃ بشرط حضور عدواوسبع فیجعل الامام طائفۃ بازاء العدوو یصلی باخری رکعۃ فی الثنائی ورکعتین فی غیرہ [3]۔ |
نمازِ خوف اس شرط پر جائز ہے کہ دشمن یا درندہ سامنے موجود ہو،چنانچہ امام لوگوں کے دوگروہ بنائے گا ان میں سے ایك گروہ کو دشمن کے سامنے کھڑا کرے گا جب کہ دوسرے کو دورکعتی نماز میں سے ایك رکعت اور چار رکعتی نماز میں سے دو رکعتین پڑھائے گا۔(ت) |
(۳۴)ص ۵۹:کوئی نماز دیدہ و دانستہ قضا ہوجائے تو اس کا ادا کرنا واجب ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع