30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ای الاقدم اسلام [1]۔ |
یعنی اسلام میں مقدم ہو ت)۔ |
(۲۸)صفحہ ۴۱:جو اکیلا نماز پڑھ لے اگر پھر اس وقت کی جماعت مل جائے تو جماعت میں شریك ہوجائے۔یہ مطلق حکم بھی مذہب حنفی کے خلاف ہے مذہب حنفی میں جس نے فجر یا عصر یا مغرب پڑھ لی دوبارہ ان کی جماعت میں شریك نہیں ہوسکتا۔ درمختار میں ہے:
|
من صلی الفجر و والعصرو المغرب مرۃ فیخرج مطلقًا وان اقیمت [2]۔ |
جو شخص ایك مرتبہ فجر،عصر اور مغرب کی نماز پڑھ چکا ہو وہ مطلقًا مسجد سے نکل سکتا ہے اگرچہ اقامت ہوجائے(ت) |
(۲۹)ص ۴۲:جو شخص صف کے پیچھے اکیلا کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے اس کی نماز نہیں ہوتی۔یہ بھی محض افترا ہے بلاضرورت ایسا کرنے میں صرف کراہت ہے نماز یقینًا ہوجائے گی۔درمختار میں ہے:
|
قدمنا کراھۃ القیام خلف صف منفرد ابل بجذب احد من الصف لکن قالوا فی زماننا ترکہ اولٰی ولذا قال فی البحریکرہ واحدہ اذا لم یجدفرجۃ [3]۔ |
ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ اکیلے مقتدی کا صف کے پیچھے کھڑا ہونا مکروہ ہے بلکہ وہ صف میں سے کسی کو پیچھے کھینچ لے۔ لیکن ہمارے زمانے میں فقہاء نے فرمایا ہے کہ اس کا ترك اولٰی ہے اسی لیے بحر میں فرمایا،اکیلے کھڑے ہونا مکروہ ہے مگر جب صف میں جگہ میں جگہ نہ پائے تو مکروہ نہیں ہے۔ (ت) |
(۳۰)ص ۵۳:نماز استخارہ سنت ہے اس کی ترکیب یہ ہے کہ دو رکعت نماز پھر نماز پڑھ کر سو رہے۔یہ سنت ہے سورہنے کا ذکر کہیں حدیث میں نہیں۔
(۳۱)ص ۵۷:وہ جو سائل نے نقل کیا کہ جن نمازوں میں قصر کا حکم ہے ان میں سنت بھی معاف ہیں،یہ محض جہالت ہے حالت قرار میں کسی نماز کی سنت معاف نہیں اور حالتِ فرار میں سب کی معاف ہیں،مطلقًا معافی کا حکم دینا غلط اور اس معافی کو قصر کے ساتھ خاص
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع