30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۲۲)ص ۳۶:اخیر کا التحیات اکثر کے نزدیك فرض اور بعض کے نزدیك سنت ہے مذہب حنفی میں یہ دونوں باتیں باطل ہیں، نہ فرض ہے نہ سنت،بلکہ واجب،درمختار باب واجبات الصلوۃ میں ہے:
|
والتشہدان [1]۔ |
اور دونوں قعدوں میں تشہد پڑھنا واجب ہے(ت) |
(۲۴ و ۲۴ و ۲۵)ص ۳۶:دائیں بائیں طرف سلام پھیرنا فرض ہے،اس میں تین باتیں فرض کیں،سلام پھیرنا اور اس کا دائیں طرف ہونا اور بائیں طرف ہونا،اور یہ تینوں باطل ہیں ان میں کچھ فرض نہیں،لفظ سلام فقط واجب ہے اور داہنے بائیں منہ پھیرنا سنت،درمختار واجباتِ نماز میں ہے:
|
ولفظ السلام [2]۔ |
اور لفظِ سلام واجب ہے۔(ت) |
مراقی الفلاح میں ہے:
|
یسن الالتفات یمینا ثم یسارا بالتسلمتین[3]۔ |
سلام کے وقت نمازی کا دائیں بائیں منہ پھیرنا سنت ہے۔(ت) |
(۲۶ و ۲۷)ص ۳۹:اگر قرآن شریف پڑھنے میں سب برابر ہوں تو وہ امام بنے جو زیادہ عالم ہو،اگر علم میں سب برابر ہوں تو وہ لائق ہے جو عمر میں سب سے بڑا ہو۔یہ دونوں باتیں بھی مذہب حنفی کے خلاف ہیں مذہب حنفی میں امامت کے لیے سب سے مقدم وہ ہے جو علم زیادہ رکھتا ہو،پھر جو زیادہ قاری ہو،پھر جو زیادہ شبہات سے بچنے والا ہو،پھر جو عمر میں بڑا یعنی اسلام میں مقدّم ہو،درمختار میں ہے:
|
الاحق بالامامۃ الاعلم باحکام الصلوۃ ثم ّ الاحسن تلاوۃ وتجویدا ثم الاکثر اتقاء للشبہات ثم الاسن |
امام کا زیادہ حق دار وہ ہے جو نماز کے احکام کو سب سے زیادہ جانتا ہو،پھر جو زیادہ اچھی قراء ت کرتا ہو،پھر وہ جو شبہات سے زیادہ بچتا ہو،پھر وہ جو عمر میں سب سے بڑھ کر ہو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع