30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باندی کو اکثر منہ اور ہاتھ پاؤں کے سوا پیٹ اور پیٹھ اور باقی جسم کا چھپانا فرض ہے،یہ شخص باندی کا عجب حکم لکھ رہا ہے کہ نہ فقط حنفیہ بلکہ تمام امت کے خلاف،اس نے آزاد عورت اور باندی کا حکم حرف بحرف ایك رکھا کہ منہ اور ہاتھ اور پاؤں کے سوا باقی بدن کا چھپانا دونوں پر فرض کیا فقط فرق یہ رکھا کہ آزاد عورت کے لیے سارا منہ مستثنٰی کیا اور باندی کے لیے اکثر منہ۔اس کا حاصل یہ ہوا کہ باندی کا ستر آزاد کے ستر سے زائد ہے کہ اُسے نماز میں سارے منہ کھولنے کی اجازت ہے اور باندی کو کچھ منہ کا حصہ چھپانا بھی فرض ہے یہ تمام جہان میں کسی مسلمان کا قول نہیں۔ایسی ہی خود ساختہ مسائل کی اشاعت کا نام اشاعتِ دین رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم رکھتاہے۔درمختار میں ہے۔:
|
ماھوعورۃ منہ عورۃ من الامۃ مع ظھرھا وبطنہا و جنبہا و وللحرۃ جمیع بدنہا خلا الوجہ والکفین و القدمین [1]۔ |
جو مرد کے لیے ستر ہے وہی لونڈی کے لیے بھی سترہے سوائے پشت،پیٹ اور پہلوؤں کے جب کہ آزاد عورت کا تمام بدن ستر ہے سوائے چہرے،ہتھیلیوں اور قدموں کے۔(ت) |
(۱۱)ص ۲۷:مقتدی کو امام کے اقتداء کی نیت کرنا چاہیے(حاشیہ)امام مالك کے نزدیك بالکل نہیں ہوتی۔یہاں سے صاف ظاہر ہوا کہ مذہب حنفی میں مقتدی کو نیت اقتداء کی ضرورت نہیں صر ف اولٰی ہے اگر نہ کرے گا جب بھی نماز ہوجائے گی حالانکہ یہ محض غلط ہے،ہدایہ میں ہے:
|
ان کان مقتدیا بغیرہ ینوی الصلوۃ ومتا بعتہ لانہ یلزمہ فساد الصلوۃ من جہتہ فلابد من التزامہ [2]۔ |
اگر نمازی غیر کامقتدی ہے تو نماز کی نیت بھی کرے اور متابعت امام کی نیت بھی کرے کیونکہ اس کی نماز کا فساد امام کی جہت سے لازم آتا ہے لہذا اس کا التزام ضروری ہے۔(ت) |
عالمگیری میں ہے:
|
لاقتداء لایجوز بدون النیۃ کذ ا فی فتاوٰی قاضی خان [3]۔ |
(بغیر نیت کے اقتداء جائز نہیں۔فتاوٰی قا ضی خان میں یونہی ہے۔ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع