30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی شئی مما جاء بہ من الدین ضرورۃ[1]۔ |
میں سے کسی شے کا انکار کفر ہے۔ |
بالخصوص امام الائمہ مالك الازمہ کاشف الغمہ سراج الامہ سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے قیاس سے ان گمراہوں کو جس قدر مخالفت ہے عالم آشکار ہے،ان کی کتابیں ظفر المبین وغیرہ امام و قیاساتِ امام پر طعن سے مملوہیں۔اور فتاوٰی عالمگیری جلد ثانی میں ہے:
|
رجل قال قیاس ابی حنیفہ حق نیست یکفر کذا فی التاتارخانۃ[2]۔ |
یعنی جو شخص کہے کہ امام ابوحنیفہ کا قیاس حق نہیں وہ کافر ہوجائے گا۔ایسا ہی تاتارخانیہ میں ہے۔ |
ثانیًا:یہ چالاك مصنف خود اقرار کرتا ہے کہ اسے کسی فریق سے مخالفت نہیں،یہ بات لامذہب بے دینی ہی کی ہوسکتی ہے جسے دین و مذہب سے کچھ غرض نہیں ورنہ دو متخالف فریقوں میں مخالفت نہ ہوئی کیونکر معقول۔
ثالثًا:لا مذہبوں کا اہلسنت کے ساتھ اختلاف مثلا اختلاف صحابہ کرام بتانا صراحۃً انہیں اہلسنت بنانا ہے حالانکہ ہمارے علماء صاف فرماتے ہیں کہ وہ گمراہ بدعتی جہنمی ہیں۔طحطاوی علی الدرالمختار جلد ۳ میں ہے:
|
ھذہ الطائفۃ الناجیۃ قد اجتمعت الیوم فی مذاہب اربعۃ وھم الحنفیون والمالکیون والشافعیون و الحنبلیون رحمہم اﷲ ومن کان خارجا عن ھذہ الاربعۃ فی ھذا الزمان فہو من اھل البدعۃ والنار[3]۔ |
یہ نجات والا اگر وہ یعنی اہلسنت و جماعت آج چار مذہب حنفی،مالکی،شافعی،حنبلی میں جمع ہوگیا ہے۔اب جوان چار سے باہر ہے وہ بدمذہب جہنمی ہے۔ |
اور جو بدعتیوں جہنمیوں کو اہلسنت جانے اور ان کا خلاف مثل اختلافِ صحابہ مانے خود بدعتی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع