30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ان کی تمام کتابیں اس سے پُر ہیں کہ وہ سوا قرآن و حدیث کے کسی کا اتباع نہیں کرتے اور اجماع و قیاس کے سخت منکر ہیں اور ہمارے آئمہ نے اجماع و قیاس کے ماننے کی ضروریاتِ دین سے گنا ہے اور ان کے منکر کو ضروریاتِ دین کا منکر کہا ہے اور ضروریاتِ دین کا منکر کافر ہے،پھر ہمارا ان کا اختلاف فروعی کیسے ہوسکتا ہے، مواقف و شرح و مواقف موقف اول،مرصد خامس،مقصد سادس میں ہے:
|
کون الاجماع حجۃ قطعیۃ معلوم بالضرورۃ من الدین [1]۔ |
یعنی اجماع کا حجت قطعی ہونا ضروریات ِ دین سے ہے: |
کشف البزدوی شریف میں ہے:
|
قد ثبت بالتواتران الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھم عملوا بالقیاس و شاع وذاع ذلك فیما بینھم من غیر رد وانکار [2]۔ |
یعنی تواتر سے ثابت ہوا کہ صحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم قیاس پر عمل فرماتے تھے اور یہ ان میں مشہور و معروف تھا جس پر کسی کو اعتراض و انکار نہ تھا۔ |
اسی میں امام غزالی سے ہے:
|
قد ثبت بالقوا طع من جمیع الصحابۃ الاجتہاد و القول بالرائ والسکوت عن القائلین بہ و ثبت ذلك بالتواتر فی وقائع مشہورۃ ولم ینکر ھا احد من الامۃ فاورث ذلك علماء ضروریات فکیف یترك المعلوم ضرورۃ [3]۔ |
یعنی قطعی دلیلوں سے ثابت ہے کہ جمیع صحابہ کرام اجتہاد و قیاس کو مانتے تھے اور اس کے ماننے والوں پر انکار نہ کرتے تھے اور یہ مشہور واقعوں میں تواتر کے ساتھ ثابت ہوا،اور امت میں سے کسی نے اس کا انکار نہ کیا تو اس سے علم ضروری پیدا ہوا تو جو بات ضروریاتِ دین سے ہے کیونکر چھوڑی جائے گی۔ |
درمختار کتاب السیر باب المرتد میں ہے:
|
الکفرتکذیبہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم |
یعنی ضروریاتِ دین نبی کریم صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع