30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور دونوں فریق کے لوگ بکثرت موجود ہیں ______________________اور اس سلسلے میں عام مسلمانوں کی تعلیم اور اتحاد مقصود ہے،اور یہ اختلاف اسی اختلاف کے مشابہ ہے جو قدیم سے صحابہ اور آئمہ دین میں چلا آیا ہے اور کتبِ فقہ وغیرہ میں اکثر حنفی شافعی وغیرہ کے نام سے مذکور ہے،اصولِ دین میں سب متفق ہیں،صرف بعض فروع میں مختلف ہیں فروعی اختلاف میں بھی سند رکھتے ہیں،غایت یہ ہے کہ کسی کی دلیل قوی ہے اور کسی کی ضعیف اور جو ضعیف پر ہے وہ بھی اپنے نزدیك اس کو قوی سمجھتا ہے غرض ہمیں اس میں نہ تعصب ہے اور نہ کسی کی مخالفت منظور ہے،محض اشاعتِ دین اور اتباعِ رسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مقصود ہے۔
پھر اسی کتاب کے صفحہ ۱۳ سطر ۶ میں لکھتا ہے:"حیض کی مدت میں علماء کا یہ اقوال ہیں۔ایك دن رات،دو دن رات،تین دن رات،سات دن رات،دس دن،پندرہ دن،اصل یہ ہے کہ یہ امر ہر عورت کی عادت اور طبیعت پر منحصر ہے"۔
پھر اسی کتاب کے صفحہ ۱۵ میں مرقوم ہے:"پانی کی طبیعت پاك ہے تھوڑا ہو یا بہت،بندہو یا جاری،بومزہ بدلنے سے ناپاك ہو جاتا ہے"۔
پھر اسی کتاب کے صفحہ ۲۴ سطر ۸ میں کہتا ہے:"ظہر کا وقت آفتاب کے ڈھلنے کے وقت سے اصلی سایہ کے سوا ایك مثل تك ہے،بعض فقہا کے نزدیك دوسرے مثل تك بھی رہتا ہے لیکن مکروہ"۔
پھر اسی کتاب کے صفحہ ۵۷ سطر ۵ میں تحریر ہے:"جن نمازوں میں قصر کا حکم ہے یہ ہیں،ظہر،عصر،عشاء ان میں سنتیں بھی معاف ہیں"۔
پھر اسی کتاب کے صفحہ ۶۳ سطر ۸ میں لکھا ہے:"جو شخص خطبے میں آکر شریك ہو دو رکعت سنت پڑھ کر بیٹھے،جو شخض دوسری رکعت کے قیام سے پیچھے ملے اس کا جمعہ نہیں ہوتا وہ ظہر پڑھے"۔
پھر اسی کتاب کے صفحہ ۱۱ سطر ۱۳ میں کہتا ہے:"اگر ایك دن میں جمعہ اور عید اتفاق سے اکٹھے ہوں تو جمعہ میں رخصت آئی ہے اگر پڑھے تو بہتر ہے"۔
پھر مولوی رحیم بخش کی بنا ئی ہوئی اسلام کی تیسری کتاب کے صفحہ ۸۶ میں مذکور ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع