30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یحلونہ انًا و یحرّمونہ اٰنًا(ایك گھڑی اسے حلال ٹھہراتے ہیں اور دوسری گھڑی اسے حرام مانتے ہیں ت)لازم اور نیز وقت عمل اعتقاد حرمت،وقت ترك اعتقاد و جوب کی اجازت،رہی شق سادس وہ خود معقول نہیں بلکہ صریح قول بالمتناقضین کہ آدمی جب عمل بالمذہبین جائز جانے گا قطعًا فعل و ترك روما نے گا اس کا حکم او راس سے منع بے ہودہ ہے،معہذا یہ شق بھی استحالہ اولٰی کے حصہ سے سلامت نہیں اچھا حکم دیتے ہو کہ آدمی نماز میں ایك فعل کرے مگر خبردار یہ نہ سمجھے کہ خدا نے میرے لکیے جائز کیا ہے لاجرم شق ہفتم رہے گی اور گل وہی کھلے گا کہ کل دین متین کا خلاف یعنی محصل جواز فعل و ترك نکلا اور وہ وجوب و حرمت دونوں کے منافی۔
بالجملہ حضرات براہِ فریب ناحق چاروں مذہب کو حق جاننے کا ادعا کرتے اور اس دھوکے سے عوام بے چاروں کو بے قیدی کی طرف بلاتے ہیں۔ہاں یوں کہیں کہ آئمہ اہلسنت کے سب مذہبوں میں کچھ کچھ باتیں خلافِ دین محمدی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہیں لہذا ان میں تنہا ایك پر عمل ناجائز و حرام بلکہ شرك ہے لاجرم ہر ایك کے دینی مسئلے چن لیے جائیں اور بے دینی کے چھوڑ دیئے جائیں۔
صاحبو،یہ تمہارا خاص دلی عقیدہ ہے جسے تمہارے عمائد طائفہ لکھ بھی چکے پھر ڈر کس کا ہے،یہ بلاد مدینہ طیبہ و بلد حرام نہیں حجاز و مصرو روم و شام نہیں زیر سلطنت سنت واسلام نہیں کھل کر کہو کہ چاروں اماموں کے مذہب معاذ اﷲ بے دینی ہیں کہ آخر دین و خلاف دین کا مجموعہ ہر گز دین نہ ہوگا بلکہ یقینًا بے دینی،والعیاذ باﷲ رب العالمین۔
خامسًا:فقیر ایك لطیفہ تازہ عرض کرتا ہے جس سے غیر مقلدین عصر کی تمام جہالت کا دفعۃً تنقیہ ہو،آج کل وہ محدث حادث جو سب غیر مقلدوں کے مقلد و امام معتمد ہیں یعنی میاں نذیر حسین صاحب دہلوی اپنے فتوٰی مصدقہ مہر دستخطی میں(کہ ان کے زعم میں رد تقلید تھا اور من حیث لایشعرون اثبات تقلید)مع اخوان و ذریات اہل خواتیم فرما چکے ہیں کہ جسے آئمہ اربعہ کا قول ضلالت نہیں ہوسکتا ایسے ہی کسی مجتہد کا مذہب بدعت نہیں ٹھہرسکتا جو ایسا کہے وہ خبیث خود بدعتی احبارو ر ہبان پر ست ہے۔ بہت اچھا چشم ماروشن دل ماشاد(ہماری آنکھ روشن اور دل خوش ت)اب یہ بھی حضرت سے پوچھ دیکھئے کہ آئمہ اربعہ کے سوا کون کون مجتہد ہیں اسی فتوے میں تصریح کی کہ امام الحرمین و حجۃ الاسلام غزالی و کیاہراسی و ابن سمعانی وغیر ہم آئمہ محض
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع