30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تعالٰی علیہ وسلم فامربقتلہ فقتل ثم قال ان الریابۃ فی بیت الخاطئۃ یعنی الزانیۃ اقل اثما ممن ینادی بالصلوٰۃ علی النبی(صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) فی المنائر،وکان یمنع اتباعہ من مطالعۃ کتب الفقہ و احرق کثیرا منھا واذن لکل من اتبعہ ان یفسر القرآن بحسب فھمہ حتی ھمج الھمج من اتباعہ فکان کل واحد منھم یفعل ذلك ولوکان لایحفظ القرآن ولا شیئًا منہ فیقول الذی لایقرؤ منھم لا خریقرؤاقرأ علی حتی افسرلك فاذا قرأ علیہ یفسرہ لہ برایہ وامرھم ان یعملوا ویحکموا بما یفھمونہ فجعل ذلك مقدما علٰی کتب العلم ونصوص العلماء وکان یقول فی کثیر من اقوال الائمۃ الاربعۃ لیست بشئی وتارۃ یتستر ویقول ان الائمۃ علٰی حق و یقدح فی اتباعھم من العلماء الذین القوا فی مذھب الاربعۃ وحرروھا ویقول انھم ضلوا واضلوا،م وتارۃ یقول ان الشریعۃ واحدۃ فما لھٰؤلاء جعلوھا مذاھب اربعۃ ھذا کتاب اﷲ وسنۃ رسولہ |
حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر صلوۃ پڑھی اس نے ان کے قتل کا حکم دے کر شہید کرادیا کہ رنڈی کی چھوکری اس کے گھر ستار بجانے والی اتنی گنہگار نہیں جتنا منارہ پر باآواز بلند نبی(صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم)پر درود بھیجنے والا،اور اپنے پیروؤں کو کتبِ فقہ دیکھنے سے منع کرتا،فقہ کی بہت سی کتابیں جلادیں اور انہیں اجازت دی کہ ہر شخص اپنی سمجھ کے موافق قرآن کے معنی گھڑ لیا کرے یہاں تك کہ کمینہ سا کمینہ کو دن ساکو دن اس کے پیروؤں کا تو ان میں ہر شخص ایسا ہی کرتا اگرچہ قرآن عظیم کی ایك آیت بھی نہ یاد ہوتی،جو محض ناخواندہ تھا وہ پڑھے ہوئے سے کہتا کہ تو مجھے پڑھ کر سنا میں اس کی تفسیر بیان کروں،وہ پڑھتا اور یہ معنی گھڑتا۔پھر انہیں تفسیر ہی کرنے کی اجازت نہ دی بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی حکم کیا کہ قرآن کے جو معنی تمہاری اپنی اٹکل میں آئیں انہیں پر عمل کرو اور انہیں پر مقدمات میں حکم دو اور انہیں کتابوں کے حکم اور اماموں کے ارشاد سے مقدم سمجھو،آئمہ اربعہ کے بہت سے اقوال کو محض ہیچ وپوچ بتاتا اور کبھی تقیہ کرجاتا اور کہتا کہ امام تو حق پر تھے مگر یہ علماء جو ان کے مقلد تھے اور چاروں مذہب میں کتابیں تصنیف کر گئے اور ان مذاہب کی تحقیق و تلخیص کو گزرے یہ سب گمراہ تھے اور اوروں کو گمراہ کر گئے۔ اور کبھی کہتا شریعت تو ایك ہے ان فقہاء کو کیا ہوا کہ اس کے چار مذہب کردیئے یہ قرآن و حدیث موجود ہیں ہم تو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع