30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
|
"درمناقب خوارزمی و درمناقب کردری ہر دو از حاکم صاحب مستدرك آوردہ اندکہ مرادش احادیث موضوعہ و مخالف کتاب ست اقول این بقول اوعلیك بالرای وقول حماد وترکت الحدیث نمی چسپد وانچہ نجاطرم ریختند کہ لام درحدیث برائے عہد ست حدیثے بودہ باشد کہ حماد روایتش میکرد وبواقع صحیح نبود امام حماد باعتمادش در مسئلہ قیاس صحیح میکرد تقدیما للحدیث علی الرای حضرت امام او را تنبیہ نمود کہ ایں حدیث صحیح نیست واعتماد رانشاید دریں مسئلہ ہم بررائے عمل کن عبدالحکم را |
مناقبِ خوارزمی اور مناقب کردری دونوں میں بحوالہ امام حاکم صاحبِ مستدرك وارد ہے کہ اس سے مراد موضوع حدیثیں ہیں جو کتاب الله کے مخالف ہیں۔میں کہتا ہوں کہ یہ معنی امام صاحب کے قول کہ"تجھ پر لازم ہے کہ قیاس پر عمل کر"اور حضرت حماد کے قول کے"میں نے حدیث کو چھوڑ دیا ہے"پر منطبق نہیں ہوتا۔اور میرے دل میں القا ہوا ہے کہ حدیث پر الف لام عہدی ہے۔اس سے مراد کوئی خاص حدیث ہے جس کو حضرت حماد علیہ الرحمۃ روایت کرتے تھے اور واقع میں وہ حدیث صحیح نہ تھی جب کہ آپ اس پر اعتماد کرتے ہوئے اور حدیث کو قیاس پر مقدم جانتے ہوئے کسی خاص مسئلہ |
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) اتیت حماد بن ابی حنیفہ وقد کان امسك عن الحدیث فسألتہ ان یحدثنی وذکرت لہ مجتبی ایاہ فقال ترکت الحدیث فانی رایت ابی فی المنام کانّی اقول لہ ما فعل بك ربك فیقول ھیہات ھیہات علیك بالرای ثلاث مرات ودع الحدیث ودع الحدیث ثلاث مرات[1]اھ |
کہ میں حضرت حماد بن امام ابوحنیفہ کی خدمت میں حاضر ہوا جب کہ آپ نے حدیث بیان کرنا بند کردیا تھا میں نے ان سے کہا کہ مجھے حدیث بیان فرمائیں تو انہوں نے کہا کہ میں نے حدیث کو ترك کردیا ہے کیونکہ میں نے خواب میں اپنے والد گرامی کو دیکھا گویا کہ میں ان سے کہہ رہا ہوں۔کہ آپ کے پروردگار نے آپ کے ساتھ کیا سلوك کیا ہے تووہ مجھے فرماتے ہیں کہ تجھ پر افسوس ہے۔قیاس پر عمل کرو۔یہ تین با ر فرمایا اور حدیث کو چھوڑ دو،یہ تین مرتبہ فرمایا۔اھ(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع