30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرہ ہے۔
ثانیًا:وہ پر کار کہاں سے آئے گی کہ جو بھر خط پر ہزار قوسین متمیز بناسکے۔نا محدود درکنار تو فعلی تقسیم تو یقینًا نا مقدور۔رہی وہمی اس کے لیے اتنا بھی ضرور کہ وہم وہاں متمایز حصے تخیل کرسکے۔کیا جو بھر خط میں کروڑ یا بال بھر میں ہزار حصے ممتاز وہم کے وہم میں بھی آسکتے ہیں۔سب کی تفصیل بالائے طاق وہم اتنا ہی بتائے کہ بال کی نوك کا ہزارواں حصہ اتنا ہوگا تو محض اجمالی تصور عقلی رہا نہ کہ تقسیم وہمی کہ اس کی مقدار وہم میں بھی نہیں آسکتی۔
ثالثًا:خط ب ح زیادہ سے زیادہ محدب کرہ نار تك بڑھ سکے گا تمہارے نزدیك خرقِ افلاك محال یا خرق وہمی سہی تو محدب فلك الافلاك سے آگے،تو کسی بعد کے لیے اصلًا راہ نہیں تو خط کی لاتناہی لا تقفی بھی باطل بلکہ وقوف واجب،اگر کہیے تو ہم تو آگے بھی کرسکتے ہیں۔
اقول:تو وہ نِرا اختراع ہوگا تقسیم اختراع ہوئی نہ کہ وہمی،یوں تو جس طرح خط کی تنصیف نامتناہی کہتے ہو تضعیف بھی نامتناہی کہو جس کا کوئی عاقل قائل نہیں اگر کہیے یہ سب کچھ مسلم مگر عقل قطعًا حکم کرتی ہے کہ اگر قوسین غیر متناہی ہوئیں ضرور ا و ح کے درمیان ہی پڑیں گی۔تو ضرور اس خط میں نامتناہی حصوں کی گنجائش ہے۔
اقول:تو اب ہر خط اگرچہ بال بھر کا ہو حصص غیر متناہیہ بالفعل کے قابل ہوگیا،اگر اس میں کسی محدود ہی کی گنجائش ہے تو ضرور تقسیم وہیں رُك جائے گی حالانکہ نہیں رکتی تو ضرور اس میں بالفعل حصص غیر متناہیہ کی وسعت ہے اور پھر وہ وسعت دو حاصروں میں محصور اور حاصر بھی کیسے جن میں صرف بال کی نوك کا تفاوت اگر فلسفہ ایسی ہی بدیہی البطلان باتیں مانتا ہے تو جنوں و تفلسف میں کتنا فرق ہے۔
ثم قول:بحمدہ تعالٰی یہ رَدفی نفسہ ہر جگہ ان کے ادعائے تقسیم نامتناہی بالقوہ کے رَد کو بس ہے کہ یہاں قوت مستلزم فعلیت وسعت ہے ظاہر ہے کہ تقسیم سے خط یا سطح یا جسم یا زاویہ کی مقدار بڑھتی نہ جائے گی کہ نئی وسعت پیدا ہوتی جائے،وسعت تو اس کی اتنی ہی ہے جو موجود بالفعل ہے اگر اس میں بالفعل غیر متناہی حصوں کی گنجائش نہیں بلکہ صرف محدود ومعدود کی ہے تو قطعًا تقسیم نامتناہی لا تقضی بھی ممکن نہیں جب اس حد تك پہنچے گی وقوف بالفعل واجب ہوگا کہ آگے وسعت نہیں تو لامتناہی لاتقضی کے لیے ان تمام امتدادوں میں بالفعل غیر متناہی کی وسعت لازم،اور وہ قطعًا باطل۔لاجرم لاتناہی لا تقضی کے لیے ان تمام امتدادوں میں بالفعل غیر متناہی کی وسعت لازم،اور وہ قطعًا باطل۔لاجرم لاتناہی بالقوہ بھی باطل وﷲ الحمد۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع