30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خط ح ء سے بڑا ہے تو ضرور اس مسافت سے گزر جائے گا لیکن ب ی،ب ل دونوں دائروں کے مرکز خط واحد ب ح پر ہیں ا ور دونوں ب کی دوری پر کھینچے گئے تو ب پر متماس ہیں اور متماس دائروں کا دوبارہ تماس یا کہیں تقاطع محال ہے ورنہ قطر مختلف ہوجائے لاجرم جس کا قطر بڑا ہے جیسے یہاں دائرہ ب ل و نقطہ تماس سے چل کر تمام دورے میں چھوٹے قطر والے جیسے دائرہ ب ی کے باہر باہر گزرے گا تو محال ہے کہ ب ل خط ا ح کو ح پر قطع کرے یا ح کے اندر سے گزر کر ح سے نیچے مثلا ن پر،نیز یہ محال ہے کہ ا یا اس سے اوپر مثلاعہ عــــــہ پر قطع کرے کہ ا ب ان سب قوسوں کا ظل اول یعنی خط مماس ہے کہ اس قطر پر عمود ہے جوان کی ایك طرف پر گزرا ہے اور یوں وتر یا وتر کا جز بہرحال قطع ہوجائے گا یہ ثبوت ہے نہ وہ کہ مستدل نے کہا ا پر گزرنے سے قوس و خط کا انطباق کب لازم۔لاجرم ا وح کے درمیان کسی نقطے مثلًا ر پر قطع کرے گا بعینہ اسی بیان سے جتنا مرکز نیچے لیتے جاؤ گے قوس کا ملتقی ا و ح کے درمیان ا کی طرف گرے گا۔کسی خط کے لیے اگر چہ لامتناہی کمی محال ہے مگر تقضی ضرور ہے خط ب ح جتنا چاہیں بڑھا سکتے ہیں اور اس پر نقطے فرض کرکے ب کی دوری پر جتنے دائرے کھینچیں سب کی قوسیں ا و ح کے درمیان گریں گی تو خط محدود ا ح کی تقسیم نا محدود ہوئی،اگر اجزائے سے مرکب ہونا واجب تھا کہ اس کی تقسیم محدود ہوتی کہ کوئی قوس جز سے کم پر نہیں گر سکتی ورنہ منقسم ہو تو ہر قوس کے مقابل ایك جز درکار اگر اجزا لامتناہی ہوں تقسیم نامتناہی لاتقضی ممکن نہ ہو کہ وقوف واجب ہونا چار نظام معتزلی کی طرح اجزائے غیر متناہیہ بالفعل ماننے پڑیں حالانکہ دو حاصروں میں محصور ہیں،یہ تقریر شبہ ہے،رہا جواب۔
اقول:واضح ہے یہ تقسیم نامتناہی امتداد موہوم کی ہوئی اور وہ اجزائے متفرقہ سے ترکب کی نافی نہیں ہاں متصلہ ہوئے تو ضرور نفی کرتی کہ قوسین انہیں پر گزرتیں اور وہ محدود لیکن اتصال ممتنع تو شبہ مندفع۔
تنبیہ اقول:اگر نفی جز سے دستبردار ہو کر اس شبہ سے صرف امتداد موہوم کی لاتناہی قسمت کا ثبوت چاہو تو وہ بھی بخیر۔
اولًا:سطح مستوی جس مین خط ب ح کو بڑھاؤ،ایسی کتنی دور تك مل سکتی ہے زمین
عــــــہ:ا پر قطع کرے جیسے قو ا ب تو خود اس کا وتر ہے اور ا سے اوپر جیسے قوس ف ب تو اس وتر کا جز ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع