30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صاف و مختصر یہ تقریر ہے کہ مثلث متساوی الاضلاع ہے جس کا ہر ضلع ۳ جز ب ۰:۰ ا ج ء ہ کا فاصلہ ایك جز ہے تو ضرور ب ح کا اس سے کم رہا۔
جواب اقول:واضح ہے اجزاء ہر گز متصل نہ ہوں گے امتداد فاصل ہے وہی ہر جگہ گھٹے گا خواہ اجزاء پہلے امتداد سے کم ہوں یا برابر یا زائد۔
شبہ ۲۸:محیط دائرہ اگر اجزائے لا تتجزی سے مرکب ہو تو ظاہر ہے کہ ان کے لیے دو طرف ہوں گی ایك بیرونی خارج دائرہ کی جانب ہے،یہ محدب ہے،دوسری اندرونی کہ داخل دائرہ کی طرف ہے،یہ مقعر ہے،یہ دونوں طرفیں اگر برابر ہوں تو مرکز زمین پر جو دائرہ بال بھر قطر کا لو دہ اور فلك الافلاك کا منطقہ برابر ہوگیا کہ معدل النہار کے محدب و مقعر معدل کے مساوی ہوئے اب اس کے نیچے ایك اور دائرہ بلا فصل لیجئے ضرور اس کا محدب مقعر معدل کے مساوی ہے کہ دونوں منطبق ہیں اور بغرض مذکور اس کا مقعر اس کے محدب کے مساوی ہے تو اس کا مقعر محدب معدل کا مساوی ہے،یونہی متصل دائرے فرض کرتے آئے یہاں تك کہ اس دائرہ صغیرہ سے مل جائیں جو مرکز زمین پر لیا تھا ان سب کے مقعر و محدب برابر ہوں گے اور ہر ایك کا محدب بحکم انطباق اس سے اور پروانے کے معقر سے اور بحکم تساوی اس کے محدب سے تو فلك سے اس دائرہ زمین تك یہ تمام دو ائر برابر ہوئے،لاجرم دائرے کا مقعر اس کے محدب سے چھوٹا ہوگا یہ چھوٹا ہونا دو ہی طرح ہوسکتا ہے:ایك یہ کہ اجزاء کی زیریں جانب بالائی سے چھوٹی ہو تو جز منقسم ہوگیا دوسرے یہ کہ زیریں جانب اجزاء خوب ملے ہوئے ہوں اور بالائی جانب جدا جدا یوں بھی انقسام ہوگیا کہ غیر ملاقی غیر ملاقی ہے۔معہذا بالائی جانب میں جو فرجے ہیں اگر ایك جز سے کم ہیں جز منقسم ہوگیا اور ایك جز کی قدر ہیں،تو دائرے کا محدب مقعر سے دونا ہوگیا اور یہ بشہادتِ حس باطل ہے۔(ملخص مواقف و مقاصد)
اقول:رحم اﷲ العلماء ورحمنا بھم(اﷲ تعالٰی علماء پر رحم فرمائے اور ان کے صدقے ہم پر بھی رحم فرمائے۔ت)یہ سب تلمیع محض ہے۔
اوّل محدب و مقعر کرے میں ہوتے ہیں محیط دائرہ میں محدب و مقعر آج ہی سنے محیط بہرحال ایك خط غیر منقسم ہے جس میں عرض محال خواہ خطِ عرضی ہو جیسے فلاسفہ مانتے ہیں،یا جوہری محیط کےلیے اگر دو طرفین ضروری ہوں تو دائرہ قطعًا محال ہوگیا کہ اسے محیط سے چارہ نہیں اور وہ جوہری ہو یا عرضی مستحیل العرض۔
ثانیًا:اگر بالخصوص محیط،جوہری میں یہ بداہت عقل کی مصادمت ہے تو دلیل یہیں تمام ہوگئی کہ اجزاء میں دو۲ طرفین ثابت ہوئیں،قطعًا فرض شے دون شے کے صالح ہوئے۔آگے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع