30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شبہ حضری کو ضعیف ترین دلائل سے کہا۔عماد نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ یہ دلیل اس پر مبنی کہ ملتقی کے بعد زاویہ بقدر ایك جز کے رہے تو ملتقی پر جز سے کم ہوگا،لیکن یہ ممنوع ہے کیوں نہیں جائز کہ ملتقی کے بعد انفراج بقدر دو جز کے ہو تو ملتقی پر پورا جز ہوگا۔
اقول:اولًا:صدرا نے اس بنا پر تضعیف نہ کی اس نے خود وجہِ ضعف بتادی ہے کہ جتنے دلائل مثلث قائم الزاویہ مسلم،متکلمین کے سوا اور کسی شکل ہندسی پر مبنی ہیں اضعف دلائل ہیں کہ متکلمین انہیں نہیں مانتے تو ان کا وجود اتصال جسم پر مبنی اور اتصال جسم نفی جزء پر،تو ان سے نفی جز پر استدلال مصادرہ ہے یعنی یہ دلیل ایسی ہی ظاہر ہے کہ مثلث متساوی الساقین جس کا قاعدہ چھوٹا ہو نہ ہوگا مگر حاد الزوایا اور متکلمین صرف مثلث قائم الزاویہ کے قائل ہیں یہ وجہ ضعف ہے نہ وہ اگرچہ اس استثنا کا بطلان بھی اُس پر سن چکے کہ متکلمین ہر گز کسی شکل کے قائل نہیں۔
ثانیًا:یہ بھی ایك ہی کہی کہ دلیل اس پر مبنی کہ ملتقی کے بعد انفراج بقدر ایك جز کے رہے تو ملتقی پر جز سے کم ہوگا۔سبحان اﷲ ملتقی پر کہاں انفراج اور کہاں زاویہ۔
ثالثًا:ایك جز سے کم ہوگا۔سبحان اﷲ ملتقی پر کہاں انفراج اور کہاں زاویہ۔
ثالثًا:ایك جز سے مراد تنہا جزو واحد تو خود باطل ہے جسے مجنون ہی جسے مجنون ہی مانے گا ساقوں کے دونوں جز کدھر جائیں گے اور اگر ایك جزء انفراج مراد تو اس پر بنائے دلیل خرط التقاد اور دو جز کی اصلًا حاجت نہیں جب ساقوں کا یہ ایك ایك جز حذف کرو گے نہ مثلث رہے گا نہ ساقین نہ وتر نہ زاویہ نہ انفراج کما تقدم۔
رابعًا:ہم شبہ کی وہ تقریر کریں جس پر کچھ وارد نہیں۔۱۰،۱۰ جز کے دونوں ضلعے اور ۶ جز کا وتر،ساقوں کا انفراج وہ فاصلہ ہے جو ان کے دونوں جزو متقابل کے اندر ہے اس کی مقدار وتر کے اجزائے وسطانی ہی ہیں یعنی ساقین کے دونوں جز چھوڑ کر یہ مجموعہ امتداد وتر ہے نہ کہ فصل بین الساقین،تو صورتِ مذکورہ میں انفراج ۴ جز ہوا اب ساقین سے ایك ایك جز کم کیا،ضرور ہے کہ انفراج گھٹا،اب اگر ایك جز سے کم گھٹے جز منقسم ہوجائے گا۔تو ضرور یہاں انفراج ۳ جز رہا پھر ایك ایك جز ساقوں سے گھٹایا دو جز رہا پھر گھٹایا ایك جز رہا۔اب ساقوں میں ۷،۷ جز ہیں اور انفراج صرف ایك جز،اب جتنی بار ساقوں سے ایك ایك جز کم کرو گے ضرور انفراج ایك جز سے کم،پھر اس کم سے کم پھر اس سے بھی کم رہے گا اور یہی انقسام ہے۔
ثم اقول:حضری نے تطویل کی اور قاعدہ چھوٹا لینے کی بھی حاجت نہیں بہت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع