30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو انقسام ہوگیا(شرح مقاصد)
اقول:یہ وہی شبہ ۵ ہے اور ا س کا ردو ہیں گزرا، اجزاء کبھی نہ ملیں گے بلکہ ان میں امتداد فاصل ہوگا اسی کا انقسام حاصل ہوگا۔
شبہ ۲۵:ہر خط کی تنصیف کرسکتے ہیں، اب اگر اجزائے طاق سے ہو جز ء منقسم ہوجائے گا(مواقف و صدرا)
اقول:یہ وہی شبہ ۱۱ ہے اور وہیں اس کا جواب۔
شبہ ۲۶:ہر زاویہ کی تنصیف ہوسکتی ہے(مواقف و مقاصد)تو وہ جز کہ دونوں خطوں کے ملتقی پر ہے منتصف ہوگیا۔(شرح مقاصد)
اقول:تنصیف زاویہ کی ہوگی یا راس کی، ثانی خود محال کہ راس زاویہ فلاسفہ کے نزدیك بھی نہیں مگر ایك نقطہ اور اول پر جب تنصیف زاویہ سے تنصیف نقطہ راس نہ ہوئی تنصیف جزء راس کیوں ہوگی کہ وہ نہیں مگر اُسی نقطے کی جگہ۔
شبہ ۲۷:ایك مثلث متساوی الساقین لیں جس کے قاعدے کے اجزاء ہر ساق سے کم ہوں، ظاہر ہے کہ راس زاویہ پر ساقوں میں اصلًا انفراج نہیں اور پھر ہر امتداد پر بڑھتا گیا ہے تو قاعدے کی طرف سے اوپر چلنے میں ہر جگہ گھٹتا جائے گا یہاں تك کہ ایك جزء کی قدر رہ جائے گا، اور اس سے اوپر ایك جزء سے کم ہوگا۔یہی انقسام ہے(حضری فی شرح کتاب الابہری)شاہ عبدالعزیز صاحب نے حواشی صدرا میں اس کی یہ تصویر کی کہ دونوں ساقین ۵،۵ جز کی ہوں اور قاعدہ ۴ جز کا اور انفراج کا گھٹنا یوں کہ دونوں ساقوں سے ایك ایك جز حذف کریں تو وہ ۴،۴ کی رہیں گی اور وتر ۳ کا یونہی ایك ایك جز ساقوں میں سے کم کرتے جائیں تو وتر ایك جز سے کم رہے گا۔
اقول:وتر کا تین جز کی قدر سے کم ہونا محال کہ ساقوں میں کتنے ہی اجزا کم لیں ضرور دو جز متقابل ہوں گے کہ دونوں وتر میں داخل ہوں گے اور ان کے بیچ میں کم سے کم ایك جز کی قدر انفراج اور اگر ساقوں کے دونوں جز منتہی چھوڑ کر وتر میں ۴ جز لیے اگرچہ یہ خلاف فرض ہے کہ اب وتر ساقوں سے اکبر ہوا مگر اب تصویر مذکور پر کوئی محال نہ لازم آئے گا جب ساقوں میں ۵،۵ جز ہیں وتر میں ۴ جز ہیں ایك ایك کے حذف پر جب ساقوں میں دو دو جزء رہیں گے وتر میں جز ء وسطانی ایك ہوگا آگے ساقوں میں سے حذف نہیں کرسکتے کہ یہ ۲،۲ جزء یوں ہیں کہ ایك ملتقی کا دونوں میں مشترك ہے اور ایك ایك امتداد کا جب اسے حذف کرو گے صرف جز ملتقی رہ جائے گا، نہ ساقین رہیں گی نہ وتر نہ مثلث، تو انقسام کب ہوا، صدرا نے اس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع