30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اب اُسے نیچے کی طرف سے جہاں صحن سے ملی ہے بتدریج ضلع ب ح کی جانب مقابل کھینچیں یوں کہ دیوار سے ملی ملی اترے یہاں تك کہ بائیں دیوار میں زمین پر آجائے ظاہر ہےکہ ا دیوار سے اترتا جائے گا اور ح صحن پر جانب مقابل ب ح میں بڑھتا جائے گا اب اگر یہ اُترنا اور بڑھنا برابر مقدار میں ہو تو وتر ا ح زمین پر اب اس طرح رکھا ہے کہ پورے ضلع ب ح پر ہے اور اس سے جتنا سرکا اتنا زائد ہے اور وہ سرکنا اترنے کے برابر اور اترنا بقدر ضلع ا ب یعنی قامت دیوار تھا تو وتر دونوں ضلعوں کے مجموعہ کے برابر ہوگیا۔اور یہ حماری سے محال ہے۔(یعنی اور اگر سرکنا اترنے سے زائد لو تو استحالہ ازید ہے کہ وتر دونوں ضلعوں کے مجموعے سے بڑھ گیا)لاجرم سرکنا اترنے سے کم ہوگا، اب اگر دیوار پر سے ایك جز اترے تو واجب کے صحن پر ایك جز سے کم سر کے، انقام ہوگیا۔(مواقف موضحا)
اقول:یہ اُسی شبہ سابقہ کی گویا دوسری تقریر ہے اور اس پر اولًا وثانیًا:وہی ہیں۔
ثالثًا:اس پورے وتر کا دیوار پر سے اترنا محال کہ اس کا جز ا دیوار کا جز تھا کہ دونوں میں مشترك تھا۔
رابعًا یہیں سے ظاہر کہ اس چھڑی یا کڑی کو وتر کہنا صحیح نہیں وتر میں دو جز اور ہیں ایك دیوار کا ایك صحن کا۔
خامسًا:یہیں سے روشن کہ اس پورے وتر کا صحن پر سرکانا بھی باطل کہ ح اس میں اور صحن میں مشترك ہے اور اگر ا و ح دونوں جز چھوڑ کر صرف چھڑی کو سرکائیے تو شبہ کا ایك ایك فقرہ مختل ہوگا۔
اولًا:یہ وتر نہیں۔
ثانیًا:اترنے کی مسافت سارا ضلع ا ب نہ ہوئی کہ اس کا جز ا متروك ہے۔
ثالثًا:نہ صرف ا، بلکہ ب بھی کہ چھڑی دیوار سے ملی ملی جو زمین پر پہنچے گی اس کا پہلا سرا نقطہ ب پر نہیں آسکتا بلکہ ب کے برابر جو جز ضلع ب ح میں ہے اس پر آئے گا کہ دیوار سے ملی ہوئی اتری ہے نہ کہ حلول و تداخل کیے۔
رابعًا: اب اس کا انطباق بھی پورے ضلع ب ح پر نہ ہوگا کہ جزء ب متروك ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع