30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور ب ء صحن مستوی اس دیوار پر
ا ح ایك چھڑی یوں رکھی ہے کہ زاویہ قائمہ ب کا وتر بنی ہے
جب
اس کا سرا کہ ا پر ہے نیچے سرکا کر ہ پر رکھو گے ضرور دوسرا سرا کہ ح پر تھا ء کی
طرف سرك کر ر پر آئے گا۔تو اسی ضلع ب ح کی استقامت پر آئے اور ا ب مثلت ا ب ح کے
عوض ہ ب ر ہوگا، اس صورت میں ا ہ اگر ایك جز ہے ضرور ح ر ایك جز سے کم ہوگا اور
یہاں سے ظاہر ہوا کہ اس مثلث کا متساوی الساقین ہونا جس طرح شبہ میں لیا ضرور
نہیں۔وہ صرف ایك تصوریر ہے جس سے اختلاف مقدار وتر دکھائی جاسکے۔رہا جب اقول:واضح
ہے اولًا مثلث بے اتصال اجزا نہ بنے گا اور وہ محال۔
ثانیًا:تینوں ضلعوں میں اجزائے متفرقہ ہیں اور ان میں امتدادات وتر کا ایك سِرا اگر ایك ضلع کے جز سے دوسرے پر آئے گا ضرور ایك امتداد طے کرے گا اور دوسرا سِرا اس سے کم امتداد نہ کہ جز سے کم۔
ثالثًا:اگر اتصال اجزاء لو تو یہ سارا دفتر گاؤ خورد
ہوجائے گا سرکانے سے وتر ہی وہ نہ رہے گا جسے کہو کہ شیئ واحد کی مقدار بڑھ گئی
پہلے اتنے کا جذر تھا اب وہی وتر اتنے کا جذر ہوگیا۔ فرض کرو،
ا ب ح ایك مثلث ہے جس کا ضلع ا ب ۳ جز،
ب ح ۴ جز وتر ا ح ۵ جز
جس سے ب ء ہ عروسی نہ بگڑے اس وتر کا نقطہ ا ضلع ا ب میں مشترك ہے اور ح ضلع ب ح
میں ا ب ا گر دونوں ضلعوں کی مقدار برقرار رکھ کر وتر کو سرکانا چاہو تو وہ صرف
تین جز کا رہ جائے گا اور اگر وتر کی مقدار بحال رکھو تو دونوں ضلعوں میں سے ایك ایك
جز کم ہوجائے گا اور ا ب وہ ع ب ۶ ب ہ ہوں گی اور اس ۵ جز
کے وتر ا ح کو اگر یوں رکھو کہ اس کا جزء ا ضلع ء ب سے اوپر ہو تو یہی صورت ا ب ح
پھر عود کرے گی ا ور اگر یوں رکھو کہ ء اسی کے اجزا کی سمت میں رہے اس طرح
ح تو اب نقطہ ء بھی اس میں شامل ہو کر وتر ۶ جز
کا ہوجائے گا وہ وتر نہ رہا اس پر اگر عروسی وارد کرو تو یہ شبہ ۱۶ تا ۱۹ کی طرف رجوع کرے گا اور انہیں کے رد سے رد
ہوجائے گا کلام اس شبہ میں ہے اور اگر سمت بچا کر یوں رکھوں
تو
نہ مثلث رہا نہ وتر شکل ذواربعہ اضلاع ہوگئی، بہرحال تمہارا مقصود کہ سرکانے سے وتر واحد کی
مقدار بدل گئی حاصل نہیں ہوسکتا۔
شبہ ۲۲:وہی دیوار و صحن پر چھڑی کے دونوں سرے جن سے مثلث قائم الزاویہ بنے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع